The news is by your side.

Advertisement

پختونوں کو غدار لکھنے پر تحریری معافی مانگنے کا حکم

پشاور: ہائی کورٹ نے پختونخوں کو غدارقرار دینے کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور پبلشر کو تحریری معافی مانگنے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں پختونخوں کو غدار قرار دینے کے خلاف درخواست دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیاتھا کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے مطالعہ پاکستان کے مضمون میں پختونوں کو غدار قرار دیا ہے۔

جسٹس قیصر رشید نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ’پختونوں نے ملک کی آزادی کے لیے بہت سی قربانیاں دیں تو ایسے لوگوں کو کس طرح غدار قرار دیا جاسکتا ہے؟، نصاب میں لفظ غدار استعمال کرنے سے تمام پختونوں اور ساری قوم کی دل آزاری ہوئی۔

سماعت کے دوران جج نے پبلشر سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ پختونوں کو غدار لکھنے پر آپ کو تحریری طور پر معافی مانگنی ہوگی جس پر وکیل صفائی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ماضی میں بھی اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور اب بھی معافی مانگنے سے گریز نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پنجاب میں مقیم پختونوں کو استحصال کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں نئے شناختی کارڈ جاری نہیں کیے جارہے اور پولیس نے مختلف مارکیٹوں میں کاروبار کرنے والے پختون تاجروں کو بھی متنازع قوم پرستی پر مبنی پمفلٹ تقسیم کیے تھے۔

پنجاب میں پختونوں کے ساتھ ہونے والے متعصبانہ رویے پر ملک کی تمام جماعتوں اور خصوصا پختون قوم پرست جماعتوں نے شدید احتجاج کیا تھا جبکہ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

تمام حلقوں کی جانب سے پرزور احتجاج کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے اپنا تفصیلی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے صوبے میں بسنے والے پختونوں کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کی آگ صوبے کے امن کو خراب کرنے کے لیے پھیلائی جارہی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں