پاکستان نے ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کی پالیسی کمیشن میں پہلی بار نمائندگی حاصل کرکے تاریخی کامیابی اپنے نام کرلی۔ ایشیا پیسیفک خطے کے ریجنل ہیڈز آف کسٹمز ایڈمنسٹریشنز اجلاس میں پاکستان 2026 تا 2028 کی مدت کیلئے منتخب ہوا۔
اعلامیے کے مطابق تقریباً 70 سالہ رکنیت کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کسٹمز کو ڈبلیو سی او پالیسی کمیشن میں نمائندگی ملی ہے، جسے پاکستان کسٹمز کی اہم عالمی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈبلیو سی او پالیسی کمیشن عالمی کسٹمز پالیسی سازی کا اہم فورم ہے، جو کسٹمز ماڈرنائزیشن، تجارتی سہولت، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، انفورسمنٹ تعاون اور گورننس اصلاحات میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔پاکستان نے سخت مقابلے کے بعد یہ کامیابی حاصل کی، جہاں ایشیا پیسیفک خطے کی پانچ نشستوں کیلئے چھ امیدوار میدان میں تھے۔ پاکستان کی کامیابی میں پاکستان سنگل ونڈو (PSW)، ڈیجیٹل کسٹمز اصلاحات اور علاقائی رابطہ کاری کے اقدامات کو اہم قرار دیا گیا۔اعلامیے کے مطابق یہ کامیابی دو سالہ سفارتی رابطوں، علاقائی ہم آہنگی اور مسلسل مہم کا نتیجہ ہے، جس کی قیادت ڈبلیو سی او میں پاکستان کے مستقل نمائندے سید اسد رضا رضوی نے کی۔
آر ایچ سی اے کانفرنس کے دوران پاکستان سنگل ونڈو بھی توجہ کا مرکز رہا، جہاں نمائندوں نوید عباس میمن اور سلمان چوہدری نے پاکستان کے ڈیجیٹل انٹیگریشن اور کسٹمز ماڈرنائزیشن ماڈل پر پریزنٹیشن دی، جسے شریک ممالک نے سراہا۔
کانفرنس کے موقع پر پاکستان اور ہانگ کانگ کسٹمز کے درمیان ValidAP معاہدہ بھی طے پایا، جس کا مقصد ڈیجیٹل تجارت، کسٹمز ڈیٹا تبادلے اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز نے اس کامیابی کو پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی اور ادارہ جاتی اہمیت کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عالمی کسٹمز پالیسی سازی میں پاکستان کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں


