The news is by your side.

Advertisement

افغان سفیر کو واپس بلانے پر پاکستان کا ردعمل

کابل / اسلام آباد: افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد افغانستان نے سفارتی عملے کو وطن واپس بلالیا، جس پر پاکستان نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق افغان صدراشرف غنی نے پاکستان سے سفیر اور عملے کو وطن واپس بلالیا، افغان دفترخارجہ کو سفیراورتمام سفارتی عملے سمیت واپسی کی ہدایت کی گئی ہے۔

افغان حکومت نے مؤقف دیا کہ ’سفارتی عملے کو مکمل سیکیورٹی ملنے تک کسی کو بھی واپس نہیں بھیجا جائے گا‘۔

دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے افغان سفیر اور سفارت خانے کے عملے کو واپس بلانے کے اقدام کو افسوسناک قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: افغان سفیر کی بیٹی کا مبینہ اغوا، تحقیقات میں‌ بڑی پیشرفت

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’سفیرکی بیٹی کے اغوا اور حملےکی اعلیٰ سطح پر تحقیقات جاری ہیں، سفیر، ان کےاہل خانہ اور قونصل خانےکے عملے کی سیکیورٹی کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے آج افغانستان کے سفیر سے ملاقات کی اور انہیں تحقیقاتی پیشرفت سے آگاہ کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق ’حکومت نے کیےگئے اقدامات پر روشنی ڈالی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، امیدکرتے ہیں افغان حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی‘۔

ترجمان دفتر خارجہ نے تاشقند میں وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر کی ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں افغان امن عمل اور پاکستان،افغانستان تعلقات پر توجہ مرکوزرکھی، پاکستان نےمتحد، پرامن اور مستحکم افغانستان کی حمایت کی، وزیراعظم نےافغان امن عمل کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا‘۔

’پاکستان نے ہمیشہ یہی زور دیا کہ افغان تنازع کا فوجی حل نہیں،  وزیراعظم نے زور دیا کہ عدم استحکام اور تنازع پاکستان کے مفاد میں نہیں، طاقت کی بنیاد پر حکومت مسلط کرنے سے حل کی راہ ہموار نہیں ہوگی، دونوں رہنماوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: ‏’افغان سفیر کی بیٹی اغوا نہیں ہوئی، تصویر جعلی ہے‘‏

دفتر خارجہ کے مطابق ’ملاقات میں زوردیاگیا کہ منفی بیانات ماحول خراب کرتے ہیں، دونوں طرف سے اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان تمام فریقین پر سیاسی حل کیلئے کوششوں کو جاری رکھےگا، دوطرفہ طریقہ کار  بنانے کیلئےضروری اقدامات کرنے پر بھی اتفاق کیاگیا تاکہ پاک افغان سلامتی سےمتعلق ایک دوسرے کے تحفظات کو دور کیاجاسکے‘۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ’ملاقات تعمیری ماحول میں ہوئی،دونوں رہنماوں نے رابطےمیں رہنے  اور انہیں مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا تھا‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں