The news is by your side.

Advertisement

پاکستان اورافغانستان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ ایکشن پلان پرمتفق

اسلام آباد: پاکستان اورافغانستان کے مابین امن کے سلسلے میں سات نکاتی ایکشن پلان پر اتفاق رائے ہوگیا ہے جس پرساتھ مل کرکام کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے افغان قیادت کے تحت افغان امن عمل کی حمایت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک اعلامیے میں کہی۔ ترجمان نے کہا کہ ایکشن پلان کے تحت مشترکہ ورکنگ گروپس میں ہر طرح سے تعاون کیا جائے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ 6 اپریل کو وزیر اعظم نے کابل کا دورہ کیا تھا جس میں ایکشن پلان کے نکات پر مکمل اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف عوامی سطح پر بلیم گیم سے اجتناب برتیں گے اور ایک دوسرے کی علاقائی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک سات نکاتی ایکشن پلان پر مل کر کام کریں گے اور ایک دوسرے کی سیکورٹی کو لاحق خطرات کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا۔

پاک افغان مشترکہ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس آج ہوگا

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بننے والے ایکشن پلان کے مطابق دونوں ممالک اپنی زمین غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے سے روکیں گے اور اس سلسلے میں جو گروپس کام کریں گے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ ایکشن پلان کے تحت جو فیصلے کیے گئے ہیں ان پر عمل درآمد کے لیے مشترکہ لائزن آفیسر مقرر کیے جائیں گے تاکہ یہ پلان کامیابی کے ساتھ آگے بڑھے۔

واضح رہے کہ پاک افغان مشترکہ ورکنگ گروپس کے درمیان دو اجلاس ہوچکے ہیں جن میں دہشت گردی اور افغان مہاجرین کی واپسی سمیت مختلف معاملات پر گفتگو کے ساتھ ساتھ پاک افغان ایکشن پلان پر بھی مثبت پیش رفت ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں دونوں ممالک کے سربراہان ماضی میں بھی ایک دوسرے کے خلاف بلیم گیم ختم کرنے پر متفق ہوچکے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں