راولپنڈی (25 نومبر 2025): ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان جب بھی کارروائی کرتا ہے اس کا باقاعدہ اعلان کرتا ہے، افغان رجیم دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرے۔
یہ بھی پڑھیں: ’فیلڈ مارشل نے افغانستان کو کئی بار پیغام بھجوایا دہشتگردی پر کوئی سمجھوتا نہیں‘
احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی تک بات چیت نہیں ہوگی، سرحد پار سے دہشتگردی کی معاونت سب سے بڑا مسئلہ ہے، پاک افغان بارڈر پر اسمگلنگ اور پولیٹیکل کرائم کا گٹھ جوڑ توڑنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ریاست کے خلاف بیانیہ بنا رہے ہیں، ہمارا مسئلہ افغان عبوری حکومت سے ہے افغانستان کے لوگوں سے نہیں، دہشتگردی کے خلاف مربوط جنگ لڑنے کیلیے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا، پاکستان کے عوام اور افواج دہشتگردوں کے خلاف متحد ہیں۔
’دہشتگردوں میں کوئی تفریق نہیں، بلا تفریق کارروائی جاری ہے۔ پاکستان کے عوام و افواج دہشتگردوں کے خلاف متحد ہیں۔ 2021 سے 2025 تک ہم نے افغان حکومت کو بار بار انگیج کیا، خوارج دہشتگردی کیلیے افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ استعمال کرتے ہیں۔ 4 نومبر کے بعد سے اب تک 206 دہشتگرد مارے گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ خودکش حملے کرنے والے سب افغان شہری ہیں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 4910 آپریشن کیے گئے، ہماری پالیسی دہشتگردی کے خلاف ہے، ہماری نظر میں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں، طالبان رجیم نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرح فیصلے نہ کرے، افغان طالبان رجیم کب تک عبوری حکومت رہے گی۔
فیض حمید کا کورٹ مارشل
غیر رسمی گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے لہٰذا قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ کورٹ مارشل کے معاملے پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، جیسے ہی عملدرآمد ہوگا اس پر کوئی فیصلہ آئے گا ہم آگاہ کریں گے۔
لئیق الرحمن دفاعی اور عسکری امور سے متعلق خبروں کے لئے اے آروائی نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں


