ایئر چیف مارشل کا آذر بائیجان کا دورہ، حکومتی و دفاعی حکام سے ملاقات -
The news is by your side.

Advertisement

ایئر چیف مارشل کا آذر بائیجان کا دورہ، حکومتی و دفاعی حکام سے ملاقات

اسلام آباد: پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان نے آذر بائیجان کا سرکاری دورہ کیا جہاں انہوں نے حکومتی وزرا اور فوجی عہدیداران سے ملاقاتیں کیں۔

ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان کے آذر بائیجان کے سرکاری دورے کے آغاز میں ئئیر چیف نے آذر بائیجان کے قومی رہنما حیدر علیوف اور ان کی اہلیہ ظریفہ علیوف کے مزار پر چادر چڑھائی۔

بعد ازاں انہوں نے جمہوریہ آذر بائیجان کے نائب وزیر اعظم یعقوب ایوبوف اور ہنگامی صورتحال کے وزیر کمال الدین حیدروف سے ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں کے دوران ایئر چیف نے باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور اسے نئی جہتوں سے روشناس کروانے کا اعادہ بھی کیا۔

انہوں نے نیگورنو کاراباخ کے مسئلے پر پاکستان کی جانب سے آذر بائیجان کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر مشکل میں آذر بائیجان کا ساتھ دے گا۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر آذر بائیجان کی جانب سے پاکستان کی حمایت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

مزید پڑھیں: روایتی اور غیر روایتی دشمن کا سامنا ہے، ایئر چیف

ایئر چیف نے کمانڈر آذر بائیجان ایئر فورس، لیفٹیننٹ جنرل رمیز طاہروف سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ دونوں معزز شخصیات کچھ دیر ایک ساتھ رہیں اور پیشہ وارانہ اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی۔

ایئر چیف نے آذر بائیجان کے ساتھ ہونے والے سپر مشاک تربیتی جہاز کی فراہمی کے معاہدے کو بروقت مکمل کرنے کا یقین دلایا اور آذربائیجان ایئر فورس کے عملے کو پاک فضائیہ کے مختلف تربیتی اداروں میں ٹریننگ فراہم کرنے پر بھی بات کی۔

بعد ازاں ایئر چیف نے آذر بائیجان کی مسلح افواج کی ملٹری اکیڈمی کا دورہ کیا اور وہاں انہوں نے جنگ کے موقع پر فضائی طاقت کے مظاہرے کے موضوع پر لیکچر دیا۔

لیکچر کے دوران ایئر چیف نے کہا کہ ایئر پاور اپنی بنیادی خصوصیات کی وجہ سے اس طرح کی جنگوں میں بہت اہمیت کی حامل ہے اور مختلف طرح سے استعمال کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فضائیہ کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نے مسلح افواج کے ساتھ مل کر ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ہے۔

ایئر چیف کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا ہے تاہم اس کے باوجود پاکستان کا خطے میں امن کے قیام کے لیے عزم متزلزل نہیں ہوا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں