دہشت گردی کے واقعات میں افغان سرزمین استعمال ہوئی: پاکستانی سفیر -
The news is by your side.

Advertisement

دہشت گردی کے واقعات میں افغان سرزمین استعمال ہوئی: پاکستانی سفیر

کابل: افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر سید ابرارحسین نے افغان حکام سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے 6 واقعات میں افغان سرزمین استعمال ہوئی۔ پاکستانی فورسز جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔

افغان دارالحکومت کابل میں پاکستانی سفیر سید ابرار حسین نے افغان حکام سے ملاقات کی۔ ملاقات افغان دفتر خارجہ میں ہوئی۔ ملاقات میں پاکستانی سفیر نے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی سے متعلق دو ٹوک گفتگو کی۔

پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے 6 واقعات میں افغان سر زمین استعمال ہوئی۔ پاک افغان بارڈر پر ہماری فورسز پر حملے ہو رہے ہیں۔

ابرار حسین نے افغان حکام پر واضح کیا کہ پاکستانی فورسز جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔ کسی بھی اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔

سفیر کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن کے لیے افغانستان اپنی ذمہ داری پوری کرے اور دوستی اور تعاون کو فروغ دے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 13 فروری کو لاہور کے چیئرنگ کراس پر ہونے والے دھماکے کے بعد دفتر خارجہ نے افغانستان کے نائب سفیر کو بھی طلب کیا تھا۔ پاکستان نے لاہور دھماکے میں افغان سرزمین استعمال ہونے پر شدید احتجاج کیا تھا۔

بعد ازاں حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے خود کش حملے کے بعد افغان سفارتی حکام کو جی ایچ کیو طلب کیا گیا۔ پاک فوج نے افغان حکام کو افغانستان میں چھپے 76 دہشت گردوں کی فہرست دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے یا پھر پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

اسی روز حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تمام ثبوت افغان حکام کو فراہم کر دیے گئے۔ ان ثبوتوں میں دہشت گردوں کے روابط کی ٹیلی فون کالز اور ڈیٹا موجود تھا۔

دوسری جانب خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد طور خم گیٹ کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا جاچکا ہے۔

گزشتہ روز پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر مہمند ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں قائم جماعت الاحرار کے ٹھکانوں پر بھی بمباری کی۔ کارروائی میں جماعت الاحرار کے ڈپٹی کمانڈر عادل باچا کا کیمپ اور تربیتی مرکز سمیت 6 سے زائد ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں