موسمياتی تبديليوں سے سب سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان دوسرے نمبر پر
The news is by your side.

Advertisement

موسمياتی تبديليوں سے سب سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان دوسرے نمبر پر

اسلام آباد : موسمیاتی تبدیلی کے باعث جہاں دیگر ملکوں کو پریشانی کا سامنا ہے وہیں پاکستان بھی تیزی سے متاثر ہورہا ہے، بین الاقوامی بینک کے مطابق زلزلہ، سیلاب یا کوئی بھی قدرتی آفات ہو ، پاکستان صورت حال سےنمٹنے کیلئے تیار نہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں موسمياتی تبديليوں کے اثرات سے نمٹنے کے لئے اقدامات کو نظر انداز کیا جارہا ہے، بین الاقوامی بینک ايچ ايس بی سی نے  موسمياتی تبديليوں سے سب سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ملکوں کی فہرست جاری کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق موسمياتی تبديليوں سے سب سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ملکوں میں  بھارت پہلےجبکہ پاکستان دوسرے نمبر  پر ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موسمياتی تبديليوں کےاثرات سے بچنے يا نمٹنے کے ليے تمام ملکوں ميں پاکستان سب سے کم صلاحيت کا حامل ہے، پاکستان، بنگلہ ديش اور فلپائن ميں غير معمولی موسمی حالات اور سيلابوں کا خطرہ سب سے زيادہ ہے۔

رپورٹ کے ليے بينک نے سڑسٹھ ملکوں سے اعداد وشمار جمع کیے ہیں اور ممالک میں موسمی تبديلیوں، درجہ حرارت ميں اتار چڑھاؤ اور ديگر عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

موسمياتی تبديليوں سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار پہلے دس ملکوں ميں نصف سے زائد جنوبی ايشيا ميں ہيں، ان ممالک میں عمان، کولمبيا، ميکسيکو، کينيا اور جنوبی افريقہ شامل ہيں۔

دوسری جانب موسمياتی تبديليوں سےسب سے کم متاثر ہونے والے ملک فن لينڈ، سويڈن، ناروے، ايسٹونيا اور نيوزی لينڈ ہيں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے غیر متوقع اور غیر معمولی بارشیں، اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز کا پگھلنا، ان کے باعث سمندروں اور دریاؤں کی سطح میں اضافہ ہونا پاکستان میں سیلابوں کی بڑی وجہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ فضائی اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے، کیوں کہ موسمی بیماریاں تو کچھ دن کے بعد ختم ہو جاتی ہیں لیکن الودگی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریاں جہاں زور پکڑتی ہیں وہیں ان کی شدت میں اضافہ سنگین بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی سے پاکستان کے مختلف شعبے جن میں زراعت، ماہی گیری اور مویشیوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں