بدھ, جولائی 22, 2026
اشتہار

پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول مذاکرات میں ڈیڈلاک

اشتہار

حیرت انگیز

پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں جاری مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مذاکرات میں ثالثی پر ترکیہ اور قطر کا شکریہ ادا کیا ہے پاکستان اصولی مؤقف پر قائم ہے افغان سرزمین سےدہشتگردی پر قابو پانا افغانستان کی ذمہ داری ہے۔

عطاتارڑ کے مطابق افغان طالبان دوحا امن معاہدے 2021 کی تکمیل میں اب تک ناکام رہا ہے افغان طالبان معاہدے کے مطابق بین الاقوامی، علاقائی، دوطرفہ وعدوں کی تکمیل میں ناکام رہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان افغان عوام سے خیرسگالی کا جذبہ رکھتا ہے پاکستان افغان عوام کیلئے پُرامن مستقبل کا خواہش مند ہے تاہم طالبان حکومت کے ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جو افغان عوام اور پڑوسی ممالک کے مفاد میں نہ ہوں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی عوام اور خودمختاری کے تحفظ کےلیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

پاکستان اورافغان طالبان رجیم کے درمیان مذاکرات پاکستانی وفد نے افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں کے ٹھوس شواہد اور منطقی مطالبات ثالثوں کے حوالے کردیے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی وفد نے افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں کے ٹھوس شواہد اور مطالبات ثالثوں کے حوالے کردیے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔

ثالثوں نے پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے فراہم کردہ شواہد کو معتبر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے تحت تسلیم کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ثالث اب افغان طالبان کے وفد سے پاکستانی مطالبات پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔

یاد رہے گزشتہ ماہ 25 سے 28 اکتوبر تک استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوسکی تھی۔

پاکستان نے اُس وقت افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں کے خاتمے کے لیے قابلِ تصدیق مکینزم کے قیام کا مطالبہ کیا تھا اور واضح مؤقف اپنایا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانے ختم کیے بغیر امن ممکن نہیں۔

اہم ترین

لئیق الرحمن
لئیق الرحمن
لئیق الرحمن دفاعی اور عسکری امور سے متعلق خبروں کے لئے اے آروائی نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں

مزید خبریں