سندھ طاس معاہدہ،عالمی بینک کی ثالثی سےمعذرت -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ طاس معاہدہ،عالمی بینک کی ثالثی سےمعذرت

نیویارک: عالمی بینک نےسندھ طاس معاہدے پر غیر جانبدار ثالثی سےمعذرت کر لی۔عالمی بینک کےصدر نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنےاختلافات آپس میں حل کرنےچاہیئے۔

تفصیلات کےمطابق عالمی بینک کےاعلامیہ کےمطابق سندھ طاس معاہدہ پرعالمی بینک اب غیرجانبدار ماہرکا تقرر نہیں کرےگا۔عالمی بینک کےصدر جیم یونگ کیم کاکہنا تھا کہ یہ اقدام سندھ طاس معاہدے کو قابل عمل بنائے رکھنے کےلیے کیاگیا۔

انہوں نےامید ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت آئندہ سال جنوری کےاختتام تک ضرور کسی فیصلے پر پہنچ جائیں گے۔

مزید پڑھیں:ورلڈ بینک کی سندھ طاس منصوبے پر ثالثی کی پیشکش

خیال رہے کہ تنازع جاری رہنے سے سندھ طاس معاہدہ غیر فعال ہوسکتا ہے،جبکہ سندھ طاس معاہدے پر عارضی تعطل سے متعلق خطوط پاکستان بھار ت کے وزرائے خارجہ کو ارسال کر د یئےگئے۔

سندھ طاس معاہدہ

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں ستمبر 1960 میں ہوا تھا جس پر پاکستان کی جانب سے اس وقت کے صدر ایوب خان جبکہ ہندوستان کی جانب سے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے باہمی اصول طے کیے گئے اور یہ معاہدہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 1965 اور 1971 میں ہونے والی جنگوں کے باوجود بھی برقرار رہاتھا۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی ہندوستان جبکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل رواں سال نومبر میں عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدے پر ثالثی کی پیشکش کی تھی،جبکہ کشن گنگا ڈیم کےتنازع پر عالمی بینک نے غیر جانبدار ماہرین بھی تجویز کر دیےتھے۔

واضح رہے کہ عالمی بینک کی جانب سے 12دسمبر تک سندھ طاس معاہدے پر غیر جانبدارماہر کی تقرری متوقع تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں