The news is by your side.

Advertisement

پاکستان اور روس کے درمیان بین الحکومتی کمیشن کا اجلاس

اسلام آباد: پاکستان اور روس میں بین الحکومتی کمیشن کے چھٹے اجلاس کے دوران روسی وزیر تجارت نے کہا کہ گیس پائپ لائن اور جیالوجیکل سروے کی صلاحیت میں دلچسپی ہے، ہوائی جہاز سازی سمیت صنعتی شعبے میں تعاون بڑھائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور روس میں بین الحکومتی کمیشن کا چھٹا اجلاس منعقد ہوا۔ وزیر برائے اقتصادی امور اور روسی وزیر تجارت نے سیشن کی مشترکہ صدارت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، روس سے تعلقات تزویراتی شراکت داری میں بدلنے کے خواہاں ہیں۔ ایس سی او کے رکنیت کے عمل میں روس کے تعاون کے شکر گزار ہیں۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ وفود کے تبادلے میں اضافے سے دو طرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے۔ پاکستان اور روس کے تعلقات میں نئے باب کا اضافہ ہوا۔ دونوں ملکوں نے حال ہی میں تجارتی تنازعہ حل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تجارتی تعلقات اور عوامی روابط میں تعاون کے مواقع موجود ہیں۔ پاکستان کاروبار کے لیے سازگار ماحول پر 10 بہترین ممالک میں شامل ہوگیا۔ موڈیز نے پاکستان کی معاشی درجہ بندی کو منفی سے مستحکم کیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے معاشی صورتحال میں بہتری کا اعتراف کر رہے ہیں۔ کامیاب پالیسیوں سے تجارتی اور جاری کھاتوں کے خساروں پر قابو پایا۔

حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان اور روس توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں، امید ہے گیس پائپ لائن منصوبے پر پیشرفت کی رفتار تیز ہوگی۔ معدنیات، ریلوے، زراعت اور صنعت کے شعبوں میں تعاون کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل کی بحالی میں روس کے تعاون کی پیشکش کو سراہتے ہیں، پاکستان روس سے ریلوے کے شعبے میں جوائنٹ وینچرز کے لیے تیار ہے۔ کوئٹہ تافتان ریلوے سیکشن کی اپ گریڈیشن پر مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ زراعت میں تعاون سمیت زرعی تجارت کو بھی بڑھانا چاہتے ہیں۔ خصوصی اقتصادی زونز میں بھی روس سے تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔

وزیر اقتصادی امور نے مزید کہا کہ پاکستان اور روس میں سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون سے خطہ ترقی کرے گا، سیاحت کے شعبے کی ترقی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ امید ہے آئی جی سی اجلاس تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔

اجلاس میں روسی وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اہمیت رکھتے ہیں، پاکستان روس کا قابل اعتماد شراکت دار ہے۔ مؤثر فنانشل مارکیٹ سے تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے۔ گیس پائپ لائن اور جیالوجیکل سروے کی صلاحیت میں دلچسپی ہے، پیشہ وارانہ تربیت میں تعاون بڑھانے کے مواقع کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہوائی جہاز سازی سمیت صنعتی شعبے میں تعاون بڑھائیں گے، ریلوے ڈھانچے اور ریل کی مقامی تیاری میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔ گاڑی سازی میں تعاون کے فروغ کے خاطرخواہ مواقع ہیں۔ پاکستان اسٹیل ملز کو روس کے ماہرین کے تعاون سے بنایا گیا۔ پاکستان اسٹیل کی بحالی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے تعاون کریں گے۔

روسی وزیر کا کہنا تھا کہ روس جدید ادویات اور بائیو مشینری کی تیاری میں مہارت رکھتا ہے۔ روسی کمپنیاں بائیو ٹیکنالوجی مصنوعات سپلائی کر سکتی ہیں۔

بعد ازاں دونوں وزرا نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات میں نئے باب کا اضافہ ہوا، روس سے بجلی گھر فرنس آئل سے کوئلے پر منتقلی سے متعلق بات چیت ہوئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں