The news is by your side.

Advertisement

کرونا کے خلاف پاکستان اور برطانیہ کی مشترکہ کاوشیں

کراچی: برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ گہرے تعلقات کے تحت کام کررہے ہیں، مشکل وقت میں دوست ہی ہمارا ساتھ دیتے ہیں، کرونا کے خلا مل کر کام کیا جارہا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ 4اپریل سے پی آئی اے کی 23پروازیں برطانیہ گئیں، پروازوں میں ساڑھے7 ہزار افراد نے سفر کیا، ہم 10مزید برطانوی چارٹرڈ پروازوں کا اہتمام کررہے ہیں۔ پروازیں لاہور اور اسلام آباد سے ہیتھرو اور مانچسٹر جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پروازیں منگل سے آپریٹ ہونا شروع ہوں گی، پاکستان میں برطانوی شہریوں کی تعداد1لاکھ تک ہوسکتی ہے، دونوں ممالک کے قریبی تعلقات بہترین سرمایہ ہیں، تعداد زیادہ ہونے کے سبب سب کی رجسٹریشن مشکل ہے، مختصر دورے پر پاکستان آئے برطانوی شہریوں کی تعداد 21ہزار ہوسکتی ہے۔

’خوشی ہے پی آئی اے پروازوں سے لوگ واپس جارہے ہیں، ہماری پروازیں فل ہوگئیں تو ہم ویٹنگ لسٹ جاری کریں گے، برطانیہ کے تقریباً3000افراد نے سفر کرنا ہے، پروازیں بھر گئیں تو اگلے ہفتے مزید پروازوں کا اہتمام کریں گے، یہ10پروازیں قطر ایئرویز کی ہوں گی، مزید پروازوں کیلئے ہم ری ٹینڈر کریں گے‘

برطانوی ہائی کمشنرکرسچن ٹرنر کا کہنا تھا کہ پاکستان سے برطانیہ کا ٹکٹ تقریباً527 پاؤنڈ ہے، برطانوی شہری چاہیں تو ایمرجنسی سسٹم کے تحت قرض لے سکتے ہیں، 24 گھنٹے میں رجسٹریشن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لوگوں کو دونوں اطراف کی حکومتوں کے قواعد کے مطابق دیکھا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی ہوائی اڈے پر اسکریننگ کی جائے گی، بخار اور کرونا کی علامات پر قرنطینہ منتقل کر دیا جائے گا، لوگوں کو مشورہ ہے برطانیہ پہنچتے ہی سیدھا اپنے گھر جائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں