جمعہ, مارچ 6, 2026
اشتہار

اشیاء کے بدلے اشیاء ! پاکستان کا افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ تجارت کا نیا فریم ورک منظور

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : افغانستان، ایران اور روس کیساتھ تجارت کے لئے نیا فریم ورک منظور کرلیا گیا ، درآمد اور برآمد کی مالیت کے مطابق اشیا کی تجارت کی اجازت ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق حکومتِ پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ اشیا کے بدلے اشیا (بارٹر ٹریڈ) کے لیے نیا فریم ورک منظور کر لیا ہے۔

وزارت تجارت کی جانب سے ترمیم شدہ بزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ میکنزم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

نئے قواعد کے تحت بارٹر ٹریڈ کا دورانیہ 90 دن سے بڑھا کر 120 دن کر دیا گیا ہے، جبکہ امپورٹ ایکسپورٹ پالیسی میں بھی نئی ترامیم شامل کی گئی ہیں۔

حکومتی نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے درآمد اور برآمد کی مالیت کے مطابق اشیا کی تجارت کی اجازت ہوگی، اور کسٹمز حکام سہ ماہی بنیادوں پر نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔ تاجر حضرات کو ہر تین ماہ بعد درآمد و برآمد کی مالیت برابر کرنا ہوگی، بصورت دیگر اجازت نامہ منسوخ تصور کیا جائے گا۔

ترمیم شدہ فریم ورک کے تحت برآمد سے قبل لازمی درآمد کی شرط ختم کر دی گئی ہے، اب درآمد و برآمد بیک وقت ممکن ہوگی، اس کے علاوہ نجی اداروں کو کنسورشیم بنانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہنا تھا کہ قانون شکنی یا ٹیکس کی عدم ادائیگی کی صورت میں متعلقہ کمپنیوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ برآمد کنندگان کو بھی نئے قواعد میں شامل کر لیا گیا ہے اور مخصوص اشیا کی فہرست ختم کر دی گئی ہے تاکہ نظام عام امپورٹ و ایکسپورٹ پالیسی سے ہم آہنگ ہو۔

ذرائع کے مطابق سال 2023 کے پرانے بارٹر میکنزم میں مشکلات کے باعث نئی ترامیم کی گئیں، جو اسٹیٹ بینک، وزارتِ خارجہ اور ایف بی آر کی مشاورت سے تیار کی گئی ہیں۔

+ posts

علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں

اہم ترین

علیم ملک
علیم ملک
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں

مزید خبریں