The news is by your side.

Advertisement

پاک فوج نے سی پیک کے خلاف بھارتی سازش کو بے نقاب کردیا

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل(ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس دہشت گرد ہیں، جنہیں استعمال کرکے وہ سی پیک پر کام کرنے والی چینی قوت اور مقامی لیبر کو نشانہ بناتا ہے، بھارت کی طرف سے سی پیک پہلے ہی سیکیورٹی خطرات کا سامنا کررہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے گلوبل ویلیج اسپیس کو اہم انٹرویو دیا۔ اس موقع پر انہوں نے بھارتی دہشت گردی کے خلاف ڈوزیئر کے اہم نکات اجاگر کیے۔ ایل او سی صورت حال، سی پیک اور ففتھ جنریشن وار فیئر سمیت دیگر سوالات پر میجر جنرل بابر افتخار نے تفصیلی گفتگو کی۔ انٹرویو میں سوال پوچھا گیا کہ آپ اور وزیرخارجہ کی ڈوزیئر پر پریس کانفرنس کا دنیا نے کیا ردعمل دیا؟۔

جواب میں میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ بھارت 5اگست2019کے بعد سے ہی کمزور پوزیشن پر ہے، ڈوزیئر کے بعد پاکستان کا دیرینہ مؤقف عالمی برادری پر ثابت ہوا، پاکستان دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنےلایا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ڈوزیئر میں ثبوت بھی سامنے لائے، بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوتوں کو عالمی برادری نے سنجیدہ لیا، ڈوزیئر کے بعد دنیا بھارتی اسپانسرڈ دہشتگ ردی پر کھل کر بات کررہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی کوششوں کے باوجود عالمی فورمز اور ذرائع ابلاغ پر بحث چل نکلی ہے، فارن آفس نے ڈوزیئر کو پی فائیو میں پیش کیا، ڈوزیئر اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کو پیش کیا گیا، اب آپ نے دیکھا اوآئی سی فورم سے تازہ ترین اعلامیہ سامنے آیا، ہم رکیں گے نہیں، عالمی سطح پر سنگین معاملے کو آگے لے جائیں گے۔

ترجمان پاک فوج سے انٹرویو میں سوال کیا گیا کہ ڈوزیئر میں بھارتی وزیراعظم کے اینٹی سی پیک سیل کی تفصیلات شامل ہیں، اس خطرے کو دیکھتے ہوئے سی پیک کی سیکیورٹی کیسے یقینی بنا رہے ہیں؟۔

جس پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا بھارت کو ڈر ہے سی پیک خطے کا گیم چینجر ہے، حقیقت میں یہ خطے کا گیم چینجر ہی ہے، سی پیک میں پورے خطے کی کنیکٹیویٹی کی صلاحیت ہے، منصوبہ صرف شمال جنوب اور پاکستان کا نہیں بلکہ خطے کی خوشحالی کا منصوبہ ہے، بھارت کی طرف سے سی پیک پہلے ہی سیکیورٹی خطرات کا سامنا کررہا ہے، پراجیکٹ بہت سی دہشت گردی کی سرگرمیوں کانشانہ ہے، بھارتی سی پیک کی ٹائم لائن مکمل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں، وہ سمجھتے ہیں رکاوٹیں ڈالنے سے منصوبہ کہیں نہ کہیں جاکر رکے گا۔

ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے کہا سی پیک خطے کی خوشحالی کا منصوبہ ہے تو کیا بھارت اس کے خلاف ہے؟۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا وہ سی پیک کی ترقی نہیں چاہتے تو مطلب واضح ہے وہ کیا کر رہے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی اور سی پیک کو نشانہ بنانے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کے سوال پر میجرجنرل بابر افتخار نے کھل کر مؤقف بیان کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان قیادت سے مسئلے پر بات کرتے رہتے ہیں، اس حوالے سے ایک باقاعدہ میکنزم موجود ہے، ہم افغان حکومت کے کیپیسٹی ایشوز کو تسلیم کرتے ہیں، اس لیے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال پر زیادہ الزام نہیں دیتے، بھارت افغان سرزمین استعمال کرکے سی پیک کو نشانہ بناتا ہے، بھارت کے پاس دہشت گرد ہیں، وہ سی پیک پر کام کرنے والی چینی قوت اور مقامی لیبر کو نشانہ بناتا ہے۔

ترجمان افواج پاکستان نے کہا خطرات کے خلاف مکمل تیاری کر رکھی ہے، چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں، سی پیک سیکیورٹی کے لیے خاص طور پر دو ڈویژن فورس تشکیل دی ہیں۔ 9،8ریگولررجمنٹس بھی راہداری کی حفاظت پر مامور ہیں، چینی پارٹنرز سی پیک کی سیکیورٹی کے انتظامات سے مکمل مطمئن ہیں، سی پیک کو نقصان پہنچانے کی ہر بھارتی سازش کو ناکام بنائیں گے، انشااللہ سی پیک ہر روز پہلے سے زیادہ ترقی کرے گا۔

ایل اوسی صورت حال اور ناگروٹا واقعے پر بھارتی الزامات کا جواب

ڈی جی نے ایل اوسی صورت حال اور ناگروٹا واقعے پر بھارتی الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی جدوجہدآزادی پاکستان سے جوڑتا ہے، بھارت کی طرف سے ہمیشہ ایسی کوشش رہی ہے، بھارت دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر سے ہٹانا چاہتے ہیں، اس لیے بھارت ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کرتا ہے، فالس فلیگ آپریشنز اور ایسے ڈرامے رچاتا ہے، ناگوروٹا واقعے میں بھارت کچھ نیا نہیں کر رہا، یہ ویسا ہی ہے جیسا بھارت گزشتہ فالس فلیگ آپریشنز میں کرتا آیا ہے۔ دوران انٹرویو سوال ہوا کہ ناگوروٹا میں کیا ہوا، کیا بھارت نے کوئی انفارمیشن شیئر کی؟۔

میجر جنرل بابر افتخار کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہوتا ہے بھارت ہمیشہ انکاری رہا، یہ مکمل خود مختار جدوجہدآزادی ہےجو70سال سےجاری ہے، یہ ممکن نہیں کہ سرحد پار سے جا کر ایسے واقعات ہوں، پاکستان ہمیشہ حالات نارمل کرنا چاہتا ہے، وزیراعظم نے کہا تھا بھارت ایک قدم آگے بڑھائے ہم 2بڑھائیں گے، ہمیں خطے کی صورت حال کو نارملائز کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں