The news is by your side.

Advertisement

توہین مذہب کے الزام میں‌ قتل، اب تک پیش آنے والے واقعات میں الزام غلط ثابت ہوئے

پاکستان  کے مختلف علاقوں میں اب تک توہین مذہب یا رسالت ﷺ کے الزام میں قتل کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں، جن میں اکثر مقتولین بعد میں بے گناہ قرار دیے گئے۔

فیصل آباد کے علاقے وزیر آباد روڈ کی فیکٹری کے غیر ملکی مینیجر کے ساتھ پیش آنے والے انسانیت سوز واقعے نے ایک بار پھر انسانیت کا درد رکھنے والوں کے دلوں کو دکھی کردیا ہے۔

ایسے تمام افراد کا ایک ہی نقطہ ہے کہ جب ملک میں توہین مذہب اور توہین رسالت ﷺ کے حوالے سے قوانین موجود ہیں تو پھر الزام کی بنیاد پر کسی کو بغیر تحقیق کے اپنی عدالت لگا کر قتل کرنا ناجائز اور ظلم ہیں۔

اس سے قبل رواں سال 2 جولائی کو پنجاب کے علاقے صادق آباد میں بینک مینیجر کو پولیس اہلکار نے توہین مذہب کے الزام میں فائرنگ کر کے قتل کیا، ملزم اس سے قبل تین سال جیل کی سزا کاٹ کر رہا ہوا تھا۔

اسی طرح کچھ عرصہ قبل خوشاب کے علاقے میں ایک سیکیورٹی گارڈ نے بینک مینیجر عمران حنیف کو اپنی بندوق سے نشانہ بنایا، ساتھی ملازمین نے مینیجر کو بے گناہ قرار دیا جبکہ تحقیقات میں بھی مقتول کی بے گناہی ثابت ہوئی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا سیالکوٹ‌ واقعے کا نوٹس، پچاس گرفتار

پنجاب کے ضلع قصور کے نواحی علاقے کوٹ رادھا کشن میں مشتعل ہجوم نے قرآن کی توہین کا الزام لگاکر میاں بیوی شمع اور شہزاد کواینٹوں کی بھٹے میں جلادیا تھا، تحقیقات میں الزام ثابت نہیں ہوا۔

اسی طرح پشاور میں گزشتہ سال 29 جولائی کو عدالت میں جج کے سامنے ملزم فیصل عرف خالد نے توہین مذہب کے الزام میں طاہر احمد نسیم کو کمرہ عدالت میں گولی مارکرہلاک کیا، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کیا اور پھر اُسے کے ساتھ سیلفی بنائی، مذکورہ اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔

اسی طرح 2017 میں خیبرپختون خواہ کے علاقے مردان یونیورسٹی میں مشتعل ہجوم نے طالب علم مشال خان پر توہین مذہب کا الزام لگا کر اُسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس میں وہ جاں بحق ہوگیا تھا۔ مردان میں پیش آنے والے واقعے کی جب یونیورسٹی اور پولیس نے تحقیقات کیں تو مقتول طالب علم بالکل بے گناہ نکلا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں