The news is by your side.

Advertisement

یورو بانڈز کی ادائیگی، حکومت کا چین سے نیا کمرشل قرضہ لینے پر غور

اسلام آباد : یورو بانڈز کی ادائیگی کیلئے حکومت چین سے نیا کمرشل قرضہ لینے پر غور کررہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملکی معیشت میں بہتری کے بلند وبانگ دعووں کے باوجود ملک قرضوں کے جال میں پھنستا جارہا ہے، پرانا قرضہ اتارنے کیلئے نیا قرضہ لیا جارہا ہے، مشرف دور میں فروخت کئے گئے یورو بانڈز کی ادائیگی کیلئے حکومت کو پچھتر کروڑ ڈالر درکار ہیں، ان دس سالہ بانڈز کی مدت مئی میں ختم ہورہی ہے، بانڈز پرشرح سود چھ اعشاریہ آٹھ فیصد ہے۔

یورو بانڈز کی ادئیگی کے لئے حکومت ایک بار پھر چینی کمرشل بینکوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ چینی کمرشل بینک پہلے ہی ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر چکے ہیں۔

نوازحکومت نے تین برس میں 25 ارب ڈالر کے نئے قرضے لئے

نوازحکومت نے تین برس میں پچیس ارب ڈالر کے نئے قرضے لئے ہیں، حکومت نےغیر ملکی کمرشل بینکوں سے تین ارب تیس کروڑ ڈالر کا قرض لیا جبکہ ساڑھے چار ارب ڈالر کے بانڈز بھی فروخت کئے جاچکے ہیں۔

دوسری جانب ترسیلات زر اور برآمدات میں کمی کے باعث ملکی زرمبادلہ ذخائر بھی دباؤ کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ نواز لیگ کے موجودہ دورے حکومت میں ملک پر قرضوں کے بوجھ میں پینتیس فیصد کا ہوش ربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ملک کا مجموعی قرضہ 18 کھرب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔


 نواز لیگ کی حکومت میں ملک پر قرضوں کے بوجھ میں 35 فیصد کا ہوش ربا اضافہ


اعداد وشمار کے مطابق  تین سال قبل یعنی مالی سال 2013-2012 کے اختتام تک ملکی قرضوں کا حجم 13 کھرب 48 ارب روپے تھا، مقامی قرضوں میں چالیس فیصد کا اضافہ ہوا، یہ قرض مالی سال 2013 کے اختتام تک 8 کھرب 68 ارب روپے تھا، جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 12 کھرب 41 ارب تک پہنچ گیا۔

غیر ملکی قرضوں میں اٹھائیس فیصد کا اضافہ ہوا،  یہ قرضے مالی سال 2013 میں 4 کھرب،7 ارب 69 کروڑ تھے، جو 30 ستمبر 2016 تک بڑھ کر 6 کھرب 14 ارب تک پہنچ گئے۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں