The news is by your side.

Advertisement

آئیے “بجٹ” کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں!

جس طرح ایک عام آدمی یا کوئی تنخواہ دار اپنی گھریلو اور دوسری متعلقہ ضروریات کے لیے ماہانہ آمدن اور اخراجات میں توازن قائم رکھنے کے لیے سوچ بچار کرتا ہے یا ماہانہ بنیاد پر مالی امور چلانے کے لیے کوئی طریقہ اور اپنی کمائی اور صَرف کو جاننے، سمجھنے کے لیے پیمانہ مقرر کرتا ہے، بالکل اسی طرح حکومتیں بھی مالیاتی نظام کے تحت سالانہ بنیادوں پر مختلف صورتوں میں اپنی آمدن، اخراجات، خسارے اور مالی بچت کے لیے بجٹ کا اعلان کرتی ہیں۔

مالیاتی امور اور ملکی سطح پر پیش کیے جانے والے بجٹ کو سمجھنا اور اس پر بحث کرنا کسی بھی عام آدمی کے لیے مشکل ہے، لیکن یہ حکومتی بجٹ عوام کو ریلیف دینے کے علاوہ مشکلات سے بھی دوچار کرسکتا ہے۔

ہمارے ملک میں جب بھی کسی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیا گیا حزبِ اختلاف نے اعتراضات اور کڑی تنقید کی اور اسے عوام دشمن یا ان کی مالی مشکلات میں اضافے کا سبب بتایا۔ تحریکِ انصاف نے اپنے دورِ حکومت میں دوسرا سالانہ بجٹ پیش کیا ہے جس پر مباحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

بجٹ سے متعلق یہ بنیادی معلومات آپ کی توجہ اور دل چسپی کے لیے پیش ہیں۔

کسی بھی ملک میں مالیات کا نظام، اس ملک کے سرکاری خزانے سے متعلق وزارت دیکھتی ہے۔ مالیات کا یہ نظام دراصل کسی حکومت کے محصول یا خرچ پر نظر رکھتے ہوئے اسے سنبھالتا ہے۔

بجٹ کو دو حصوں میں‌ تقسیم کیا جاسکتا ہے جس میں ایک حکومتی آمدنی اور دوسرا اخراجات ہیں۔

ہمارے ملک میں بجٹ کی وزیراعظم سے منظوری لینے کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے اور یہی تمام جمہوری حکومتوں کا طور ہے۔

حکومتی آمدنی کی بات کی جائے تو یہ مختلف طریقوں سے سرکاری خزانے تک پہنچنے والی رقم ہے جن میں مختلف اشیائے ضرورت پر ٹیکس کا پیسہ، ریاستی وسائل اور ذخائر کو افراد یا ادارے استعمال کرنا چاہیں تو مخصوص رقم یا محصول کی مد میں خطیر رقم سرکاری خزانے میں جمع کراتے ہیں۔

اسی طرح کے مختلف شعبوں میں لین دین اور خرید وفروخت بھی سرکاری خزانے کو مالی فائدہ پہنچاتی ہے۔

اگر حکومتی اخراجات کو مختصرا بیان کیا جائے تو یہ وہ پیسہ ہوتا ہے جو کوئی بھی حکومت مختلف شعبوں میں‌ اور مختلف سرکاری منصوبوں پر لگاتی ہے، اسی طرح حکومت کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن وغیرہ پر بھی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں