اتوار, اپریل 12, 2026
اشتہار

پاکستان کی پانی کو ہتھیار بنانے کی کوششوں پر اقوام متحدہ میں سخت تنبیہ

اشتہار

حیرت انگیز

پاکستان نے بھارت کی طرف سے پانی کو ہتھیار بنانے کے خلاف سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسے تقسیم کا ذریعہ بنانے کے سنگین علاقائی اور عالمی نتائج ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پائیدار ترقی کیلئے پانی  کے حصول کیلئے ایک اجلاس ہوا، اقوام متحدہ میں نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے پاکستان کے پانی کے لیے عالمی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

اقوامِ متحدہ میں پائیدار ترقی کے ہدف چھ پر پاکستانی نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا پانی تفرقہ نہیں، اتحاد کی علامت ہے، پانی کو ہتھیار بنا کر تقسیم کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے۔

سفیر جدون نے آئندہ 2026 واٹر کانفرنس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کانفرنس سرحدی دریاؤں کے پائیدار نظم و نسق کا نادر موقع ہے جس میں قانونی فریم ورک، تعاون، اور تنازعہ سے بچاؤ پر توجہ دی جائے۔

پاکستانی نائب مستقل مندوب نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کی آواز کو بلند کرنا ضروری ہے، مشترکہ پانیوں کے منصفانہ استعمال اور نقصان سے بچاؤ عالمی ذمہ داری ہے۔

عثمان جدون نے اجلاس میں “سرحد پار آبی تعاون” کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ 2 ارب افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہے جس سے دنیا خطرے میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھی موسمیاتی اور پانی کے بحرانوں سے متاثر ہو رہا ہے، سندھ طاس 22 کروڑ عوام کی زندگی، صحت اور توانائی کا ضامن ہے اس لیے پاکستان عالمی آبی کانفرنس کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کرےگا۔

گزشتہ ماہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی تو جنگ ہو گی۔

انہوں نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت کے پاس دو آپشن ہیں: یا تو وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے، یا پاکستان اس کا جواب جنگ سے دے‘‘۔

سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کا بھارتی اعلان عالمی قانون کیخلاف ہے، پاکستان

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں