پیر, جون 8, 2026
اشتہار

"تجارتی سیاست” میں چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت

اشتہار

حیرت انگیز

پاکستان کی تجارتی سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کا شور کافی عرصہ سنائی دیتا رہا۔ جس میں ممبرانِ اسمبلی اور اراکینِ سینیٹ کی وفاداریوں کو سیاسی مقاصد کے لیے خریدا گیا۔ مگر اب یہ شور بتدریج کم سنائی دیتا ہے۔ اس کی اہم وجہ سیاسی جماعتوں کے مضبوط ہونے کے ساتھ قانون سازی اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والی مفاہمت ہے۔

ملکی سیاست میں نوّے کی دہائی ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی ضمیر فروشی کی ایک بڑی مثال ہے اور اسے ملکی تاریخ کی سیاہ ترین دہائی قرار دیا جاتا ہے۔ پھر موجودہ صدی کے اوائل میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے ذریعے نوّے کی دہائی کی سیاست کو بڑی حد تک ترک کر دیا تھا۔ مگر قیادت نے اس چارٹر تک پہنچنے کے لئے بہت بڑی سیاسی قیمت چکائی ہے۔ اور ہارس ٹریڈنگ سے جان چھڑانے کے لئے بہت مشکلات اٹھائی ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے باہمی مشاورت اور مذاکرات کے بعد ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کے لئے سخت قانون سازی کی ہے۔ اس میں فلور کراسنگ کے حوالے سے قانون سازی سب سے اہم ہے۔ وفاداری تبدیل کرنے والا رکن اسمبلی اور سینیٹ نہ صرف اپنی نشست سے محروم ہوسکتا ہے، بلکہ اس میں نااہلی جیسی دفعات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بعض اہم معاملات پر خفیہ ووٹنگ کی جگہ کھلی ووٹنگ کو رائج کرنا شامل ہے۔ جب کہ ووٹ فروخت کرنے والوں کو آخری دھچکا سیاسی مفاہمت سے اس وقت لگا جب سینیٹ کے انتخابات میں سیاسی قیادت نے خفیہ ووٹنگ کی جگہ اپنے اپنے ووٹنگ وزن کے مطابق سیٹوں کی ایڈجسمنٹ کر لی۔ مگر تجارتی سیاست میں آج بھی ہارس ٹریڈنگ اور ووٹوں کی خرید و فرخت کا عمل جاری ہے۔ اس کی بدترین مثال وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے انتخابات میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہاں آج بھی ووٹوں کی خرید و فرخت کا عمل جاری ہے۔

ایف پی سی سی آئی کا صدر بننا پورے پاکستان کی تجارتی سیاست کی معراج سمجھی جاتی ہے۔ جو بھی فرد اس نشت پر بطور صدر موجود ہوتا ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری، تجارتی، توانائی، ٹیکس اور ترقیاتی پالیسی سازی میں صدر ایف پی سی سی آئی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ حکومت بجٹ سازی کے عمل میں بھی ایف پی سی سی آئی سے مشاورت کرتی ہے۔ اور تقریباً ہر قومی فورم پر ان کی بات سنی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم یا دیگر غیر ملکی سرکاری دوروں میں صدر ایف پی سی سی آئی یا ان کے نامزد نمائندوں کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔ بطور صدر یا نائب صدر ایف پی سی سی آئی ملکی فیصلہ سازی میں ان کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

ایف پی سی سی آئی کی صدارت کے ذریعے عالمی اور علاقائی تجارتی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ جن میں اکنامک کارپوریشن آرگنائزیشن چیمبر آف کامرس، سارک چیمبر آف کامرس ، کنفرڈریشن ایشیاء پیسیفک کامرس اینڈ انڈسٹری، ڈی ایٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، اسلامک چیمبر کامرس اینڈ انڈسٹری کے علاوہ متعدد علاقائی اور عالمی تجارتی کونسل اور فورمز شامل ہیں۔ اس طرح ایف پی سی سی آئی کا عہدہ تاجر اور صنعت کار کے لئے عالمی سطح پر کاروباری تعلقات کو وسعت دینے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اس اہم ترین ادارے کے صدر کے پاس تمام تر اختیارات ہیں۔ اگر وہ چاہے تو اپنے ساتھ دیگر عہدے داروں اور کونسل ممبران کے اشتراک سے کام سر انجام دے یا پھر وہ تمام اختیارات خود کو تفویض کر دے۔

اس اہم ترین عہدے کو حاصل کرنے کے لئے ملک کے بڑے بڑے صنعتی اور تجارتی خاندان اور شخصیات ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں۔ اس سیاسی کشمکش میں پیسے کا عمل دخل بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ انتخابات جیتنے کے لئے بے دریغ پیسہ بہانے کے ساتھ ساتھ ووٹوں کی خرید و فروخت بھی بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے۔ ایک سابق صدر ایف پی سی سی آئی نے بتایا کہ اگر انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت نہ بھی ہو تو پھر بھی انتخابات لڑنے والوں کو ملک بھر میں مہم چلانی ہوتی ہے۔ ملک کے ہر بڑے شہر میں ووٹروں اور کاروباری برادری کے بڑے بڑے جلسے اور ضیافتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جب کہ پولنگ کے لئے ملک بھر سے ووٹروں کو کراچی لانا، ہوٹلوں میں قیام اور شاپنگ بھی امیدوار کے ذمے ہوتی ہے۔ اور اس کا عام طور پر خرچہ دس سے پندرہ کروڑ روپے بنتا ہے۔ اگر مقابلہ کانٹے کا ہو اور چند ووٹوں کا فرق ہو تو پھر ان کی خرید و فروخت کی منڈی بھی لگ جاتی ہے۔ اس پر خرچ کا حساب ہی نہیں رہتا۔ اور اس دہائی میں ایسا متعدد بار دیکھا گیا ہے کہ جس امیدوار کی اکثریت بھی نہیں تھی وہ بھی پیسے کے زور پر جیت گیا۔ اور ووٹ خرید کر نشست جیتنے والے نے پھر اپنی برادری کی خدمت کے بجائے اپنے کاروبار کو فروغ دینے، ذاتی مفادات سمیٹنے اور اعلیٰ سرکاری دوروں میں سیر سپاٹے میں گزار دیئے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا سب سے بڑا ایوان تجارت و صنعت ہونے کے باوجود ایف پی سی سی آئی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت اور حیثیت کھو رہا ہے اور پالیسی سازی میں دیگر فورمز تیزی سے اس کی جگہ لے رہے ہیں۔ پیسے کے اس کھیل کی وجہ سے اچھے اور باصلاحیت صنعت کار اور تاجر ایف پی سی سی آئی سے فاصلہ اختیار کررہے ہیں۔

اب لگتا یوں ہے کہ اس پیسے کے کھیل سے ایف پی سی سی آئی کی سیاست کرنے والے تاجر اور صنعت کار بھی تنگ آگئے ہیں اور وہ پورے عمل میں اصلاحات کے خواہاں ہیں۔ ان کے اہداف میں ووٹوں کی خرید و فروخت کو ختم کرنے کے علاوہ باصلاحیت افراد کو ایف پی سی سی آئی کی قیادت دینا ہے۔

اس سال کے آخر میں ایف پی سی سی آئی کے انتخابات ہونے ہیں جس کے لئے سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ مگر دونوں بڑے سیاسی گروپس نے باہمی مشاورت کے ذریعے انتخابی عمل کو شفاف بنانے پر بات چیت شروع کر دی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ خفیہ ووٹنگ میں ووٹوں کی خرید و فروخت کو ختم کیا جائے اور اس کے لئے دونوں گروپس ایک چارٹر پر متفق ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو تجارتی سیاست سے پیسے کا لین دین ختم کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے سیاستدانوں کی طرح کاروباری برادری ہارس ٹریڈنگ سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، مگر اس حوالے سے جو کاوشیں کی جارہی ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں۔

+ posts

راجہ کامران سینئر صحافی ہیں۔ کونسل آف اکنامک اینڈ انرجی جرنلسٹس (CEEJ) کے صدر ہیں۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل rajajournalist@ ہے۔

اہم ترین

راجہ کامران
راجہ کامران
راجہ کامران سینئر صحافی ہیں۔ کونسل آف اکنامک اینڈ انرجی جرنلسٹس (CEEJ) کے صدر ہیں۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل rajajournalist@ ہے۔

مزید خبریں