The news is by your side.

سول سرونٹ، شاہانہ انداز اور کرّوفر

ٹھیک سے یاد نہیں، یہ ساٹھ کی دہائی کا کوئی سال تھا۔ کورنگی نمبر چار پر جہاں شاید اب بلدیہ لانڈھی کورنگی کی عمارت ہے وہاں کوارٹروں سے مین روڈ تک میدان ہوا کرتا تھا۔

اس میدان کے درمیان تقریباً بلدیہ کی عمارت والی جگہ پر ہی، پنڈال لگے ہوئے تھے۔ سامنے میدان میں کورنگی لانڈھی کے اسکولوں کے درمیان کھیلوں کے مقابلے ہو رہے تھے۔ میدان کے ایک جانب دونوں طرف گملے رکھ کر ایک راہداری سی بنائی گئی تھی جو مین روڈ تک جاتی تھی۔ راہداری کی دونوں جانب منتظمین ہاتھوں میں ہار لیے بے چینی سے کسی کے منتظر تھے۔

کافی دیر بعد ایک لمبی سیاہ کار جس پر سبز پرچم اس کی سرکاری حیثیت کا احساس دلا رہا تھا، دھول اڑاتی اور گرد و غبار کا طوفان بپا کرتی پنڈال کے سامنے آکر رکی۔

منتظمین چہرے سے گرد ہٹاتے تقریباً رکوع کی حالت میں کار کے ٓآس پاس کھڑے تھے۔ یکایک مائیک کے دھاڑنے کی آواز آئی۔ مہمان خصوصی کمشنر کراچی، عالی جناب روئیداد خان صاحب تشریف لے آئے ہیں۔

گاڑی سے سوٹ بوٹ اور ٹائی میں ملبوس ایک صاحب بڑے کروفر کے ساتھ برآمد ہوئے جن کی جاہ و تمکنت دیکھ کر صدر ایّوب یاد آگئے جنہیں سنیما میں پاکستان کا تصویری خبرنامہ میں اسی انداز میں دیکھا تھا۔ ان سوٹ بوٹ والے صاحب کا رعب کچھ ایسا دل پر قائم ہوا کہ آج تک اس مرعوبیت کی کیفیت سے نہ نکل سکا۔

بہت بعد میں کہیں جا کر پتہ چلا کہ انسانوں کی اس قسم کو بیوروکریٹ کہتے ہیں۔ جس کا اردو ترجمہ کہیں نوکر شاہی تو کہیں افسر شاہی لکھا ہوا دیکھا۔ سرکاری زبان میں یہ البتہ سول سرونٹ یا پبلک سرونٹ کہلاتے تھے۔ اب تک سمجھ نہیں آیا کہ سرونٹ کے معنی شاہی کیوں کر ہوگئے۔

یہ سول سروس تاجِ برطانیہ کی دین ہے۔ راج کے تین نمائندے، ڈپٹی کمشنر، مجسٹریٹ اور کپتان پولیس پورے ضلع کا نظم و نسق سنبھالتے اور شاہ یا ملکہ انگلستان ان کی مدد سے پورے ہندوستان کو سنبھالتے۔

(شکور پٹھان کے شایع کردہ مضمون خادم یا مخدوم سے اقتباسات)

Comments

یہ بھی پڑھیں