site
stats
پاکستان

افغان صدر کا بیان افسوس ناک ہے،دفترخارجہ

اسلام آباد: پاکستان نے افغان صدر اشرف غنی کے بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان قیادت کی جانب سے قیام امن کی پاکستانی کوششوں کو نظر انداز کرنے کا رویہ قابل افسوس ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میں افغانستان کی سرزمین کے پاکستان میں امن مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردوں کی مالی امداد کے لیے استعمال ہونے پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان صدر کا بیان مایوس کن ہے کیونکہ ان کی جانب سے قیام امن کی پاکستانی کی کوششوں کو نظر انداز کرنے کا رویہ اپنایا گیا ہے جو قابل افسوس ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کےلیے پرعزم ہے کیوں کہ افغانستا ن میں امن و استحکام پاکستان اور خطے کے مفاد میں بھی ہے افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کا لاکھوں افغان بھاَئیوں کے ساتھ وعدہ ہے جو 37 سال تک پاکستان میں رہے اور پاکستان نے ان کی میزبانی کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرانزنٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت پاکستان افغانستان کو بھرپورتعاون فراہم کرتا رہا ہے اور پاکستان نے اپنی سرزمین کے ذریعے افغان پھل بھارت بھجوانے میں بھی مدد دی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فورسسزانسداد دہشت گردی کے لئے مصروف عمل ہیں امن کےلئے پاکستانی کوششوں سے افغانستان اور خطے کی مجموعی صورتحال بہتر ہوئی ہے پاکستان کوافغان سرزمین اپنے خلاف ہونے پر تشویش ہے، ہمسایہ ملک کی سرزمین پاکستان میں پرتشدد کاروائیوں اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کےلئے استعمال ہو رہی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بار بھی افغان حکومت سے تعاون کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا کہ الزامات کی بجائے باہمی کوششوں سے امن کا قیام ممکن بنایا جا سکتا ہے، دونوں ممالک کو اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top