The news is by your side.

Advertisement

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر کی پھانسی پر تشویش ہے، دفترخارجہ پاکستان

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہے کہ علی حیدر گیلانی کی بازیابی اہم پیش رفت ہے،علی حیدر کو امریکی اور افغان فورسز نے مشترکہ آپریشن میں بازیاب کرایا۔

ترجمان دفترخارجہ نفیس ذکریا نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ افغان حکام نے ہمارے سفیر کی موجودگی میں علی حیدرگیلانی کو حوالے کیا، سرحد پار کرنے کا معاملہ پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ معاملہ ہے۔ طورخم بارڈر پر معاملات مزید بہتر کرنے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاک افغان ملٹری حکام طورخم بارڈر کے حوالے سے رابطے میں ہیں،انہوں نے کہا افغان طالبان کیساتھ مذاکرات کوئی آسان معاملہ نہیں۔یہ معاملہ چار ملکی گروپ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔چار ملکی کمیٹی کا پانچواں اجلاس مئی کے آخر میں ہوگا۔ اس بارے میں اجلاس کی تاریخ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔چارملکی اجلاس میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے گا۔توانائی کے منصوبے کاسا 100 اور تاپی منسوبوں کی کامیابی کیلیے افغانستان میں وسیع البنیاد امن ضروری ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر کی پھانسی پر تشویش ہے۔بنگلہ دیش کے قائم مقام سفیر کواس سلسلے میں دفتر خارجہ طلب کر کےاور بنگلہ دیشی سفیر کو پاکستان کی جانب سے احتجاج ریکارڈکرایا گیا ہے ہم نہیں سمجھتے کہ اس معاملے پر پاکستان کا ردعمل کمزور ہے۔ ہم نے اس معاملے پر شدید تحفطات کا اظہار کیا ہے، کل ہم نے بیان جاری کیا اور آج سفیر کو طلب کرکے احتجاج کیا۔

امریکہ سے ایف سولہ طیارے خریدنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایف سولہ طیاروں کے حوالے سے ہمارا موقف بڑا واضح ہے،امریکہ اور پاکستان دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، انہوں نے کہا کہ دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے۔امید ہے ایف سولہ طیاروں کے حوالے سے امریکہ ہمارے موقف کوسمجھے گا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ملزمان تک سفارتی رسائی کے حوالے سے دو معاہدے ہیں ۔ایک معاہدے ویانہ کنونشن جبکہ ایک پاکستان اور بھارت کا دوطرفہ معاہدہ ہے۔کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشتگردی اور دہشتگدوںکی مالی امداد میں ملوث ہے دونوں معاہدوں کی روشنی میں کلبھوشن تک سفارتی رسائی کی بھارتی درخواست کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں