The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کا بھارت کی ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج

اسلام آباد : پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترخارجہ طلب کر کے یکم اکتوبر کو ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاء و سارک) ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گوراو اَہلووالیا کو دفتر خارجہ طلب کر کے یکم اکتوبر دو ہزار انیس کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) پر جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج کیا اور احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایل او سی کے نیزہ پیر اور باغ سر سیکٹرز میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پچاس سالہ بزرگ خاتون نورجہاں شہید ہوئیں جبکہ ساٹھ سالہ بزرگ خاتون راشدہ، ستر سالہ بزرگ محمد دین اور ظہیر شدید زخمی ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا دو ہزار سترہ میں بھارت نے ایک ہزار نوسو ستر مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا اور اس وقت سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، دانستہ شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت و وقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحا منافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن وسلامتی کیلئےخطرہ ہیں، خلاف ورزیاں کسی سنگین اسٹریٹجک غلط فہمی کاباعث بن سکتی ہیں، بھارت دو ہزار تین کے جنگ بندی کے معاہدے کا احترام یقینی بنائے۔

انہوں نے زوردیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یواین ایم او جی آئی پی)کو اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں