The news is by your side.

Advertisement

امریکا سے وزیرستان، کرم ایجنسی میں کارروائی کا کوئی معاہدہ نہیں: دفتر خارجہ

اسلام آباد: دفتر خاجہ کا کہنا ہے کہ امریکا سے وزیرستان یا کرم ایجنسی میں کارروائی کا کوئی معاہدہ نہیں۔ امریکا انٹیلی جنس شیئرنگ کرے ہم کارروائی کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ نے گزشتہ روز اورکزئی ایجنسی میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ امریکا سے وزیرستان یا کرم ایجنسی میں کارروائی کا کوئی معاہدہ نہیں۔ امریکا انٹیلی جنس شیئرنگ کرے ہم کارروائی کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کی اورکزئی ایجنسی کے علاقے ڈپہ ماموزئی میں امریکی ڈرون حملے کیا گیا تھا جس میں 2 مبینہ دہشت گرد مارے گئے تھے۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق ڈرون ایک گھر پر داغا گیا جس میں افغان مہاجرین رہائش پذیر تھے۔

حملے کے بعد دفتر خارجہ نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈرون حملے میں افغان مہاجرین کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، مزید حملے برداشت نہیں کریں گے۔ دہشت گردی روکنی ہے تو افغان مہاجرین کی پرامن واپسی یقینی بنانا ہوگی۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کا میزائل تجربہ اس کے امن کے بیانات میں تضاد کا عکاس ہے۔ میزائل تجربے سے جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہوگا۔ ’پاکستان اپنی حفاظت کے لیے سلامتی کی ضروریات سے غافل نہیں‘،

ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چین میں پاکستانیوں کی گرفتاری کا علم نہیں، معاملہ دیکھیں گے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ڈیووس میں اہم سربراہان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق انڈونیشیا کے صدر 26 جنوری کو پاکستان آرہے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں