نواب اکبر بگٹی قتل کیس، سابق صدر پرویز مشرف کو 2ماہ میں پیش ہونے کی مہلت -
The news is by your side.

Advertisement

نواب اکبر بگٹی قتل کیس، سابق صدر پرویز مشرف کو 2ماہ میں پیش ہونے کی مہلت

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے نواب اکبر خان بگٹی قتل کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو دو ماہ تک پیش ہونے کی مہلت دیتے ہوئے اُن کے وکیل کا وکالت نامہ واپس کردیا اور پیش نہ ہونے پر ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا عندیہ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں جسٹس جمال احمد مندوخیل اور جسٹس ظہیر الدین کاکڑ پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف سمیت دیگر ملزمان کی بریت کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اُن کے موکل کو میڈیکل چیک اپ اور سیکورٹی کی ضمانت دی جائے تو وہ عدالت میں پیش ہونے کے لئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر 23مارچ کو واپس آنے کو کہا ہے، جس کے بعد وہ عدالت میں پیش ہونگے، اس لئے ہمیں مہلت دی جائے۔

عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل کو مشروط مہلت دیتے ہوئے اُن کا وکالت نامہ واپس کر کے بطور سابق صدر کے نمائندہ اُن کی یقین دہانی پر دو ماہ تک کی مہلت دیتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کو بیس مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

جس کے بعد سماعت آئندہ سال بیس مارچ تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔


مزید پڑھیں : سابق صدرپرویزمشرف نواب اکبربگٹی قتل کیس سے بری


یاد رہے کہ 16 جنوری 2016 کو کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بری کردیا تھا۔

جس کے بعد نواب اکبر بگٹی کے بیٹے نوابزادہ جمیل بگٹی نے پرویز مشرف کی بریت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ نواب اکبر بگٹی چھبیس اگست دوہزار چھ کو پرویز مشرف کے دورِحکومت میں آپریشن کے دوران لقمہ اجل بن گئے تھے، پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی نے دوہزار نو میں درج کرایا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں