ہر روز پاکستان میں درجنوں خواتین اور لڑکیاں جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں، مگر انصاف کی راہ ان کے لیے اکثر ایک طویل اور پیچیدہ سفر بن جاتا ہے۔ قانونی اصلاحات کے باوجود، متاثرہ افراد کو نہ صرف انصاف کے لیے لڑنا پڑتا ہے بلکہ سماجی دباؤ، خوف، اور مجرمانہ دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک نئی رپورٹ "پاکستان میں جنسی تشدد کے خلاف قانونی ردعمل: نفاذ اور انصاف تک رسائی میں درپیش چیلنجز”، جو غیر سرکاری عالمی تنظیم ایکوالیٹی ناؤ نے جاری کی ہے، اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ قانونی اصلاحات کے باوجود متاثرہ افراد آج بھی وہ تحفظ اور انصاف حاصل نہیں کر پاتیں جس کے وہ حق دار ہیں۔
قوانین موجود ہیں، مگر نفاذ ناکافی
پاکستان میں جنسی تشدد کے خلاف قوانین میں بہتری کی گئی ہے، لیکن عملی سطح پر ان کا نفاذ کئی رکاوٹوں کا شکار ہے:
تحقیقات اور مقدمات میں طویل تاخیر
ناقص شواہد جمع کرنے کے طریقے
عدالت سے باہر ہونے والے غیر قانونی "سمجھوتے”
ان عوامل کی وجہ سے ریپ کے مقدمات میں صرف 0.5٪ سزا کی شرح ہے، یعنی متاثرین میں سے اکثریت انصاف کے حصول سے محروم رہ جاتی ہے۔
قانونی اور سماجی چیلنجز
متاثرین کو قانونی امداد، نفسیاتی معاونت، اور محفوظ پناہ گاہوں تک رسائی میں مشکلات
پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی خواتین کو زیادہ خطرہ
معذور خواتین تین گنا زیادہ متاثر
پولیس اور عدالتیں اکثر جسمانی چوٹ یا مزاحمت کے شواہد پر انحصار کرتی ہیں، جبکہ رضامندی کی کمی کو نظر انداز کیا جاتا ہے
ویمن میڈیکو لیگل آفیسرز (WMLOs) کی کمی اور وسائل کی قلت
معاون خدمات اور فاسٹ ٹریک عدالتیں
انسداد ریپ ایکٹ 2021 نے متاثرین کے لیے قانونی مدد، نفسیاتی معاونت اور اینٹی ریپ کرائسز سیلز فراہم کرنے کی امید پیدا کی، مگر حقیقت میں یہ سہولیات اکثر دستیاب نہیں ہوتیں۔ فاسٹ ٹریک عدالتیں بروقت انصاف کی امید دلاتی ہیں، مگر پولیس، استغاثہ، اور عدالتوں میں کمزور ہم آہنگی کے سبب عملی مسائل برقرار ہیں۔
بچوں کی شادی اور قانونی تضادات
پنجاب، سندھ، اسلام آباد: لڑکیوں کی کم از کم شادی کی عمر 18 سال
خیبر پختونخوا، بلوچستان: کم از کم 16 سال
کرسچین میرج ایکٹ 1872: بعض شرائط کے تحت 18 سال سے کم عمر میں شادی ممکن
رپورٹ کے مطابق، یہ قانونی تضادات متاثرین کے لیے انصاف حاصل کرنا مشکل بناتے ہیں اور لڑکیوں کے حقوق خطرے میں ڈالتے ہیں۔
سفارشات
شواہد جمع کرنے کے نظام میں بہتری اور وسائل کی فراہمی
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتوں کی تربیت
محفوظ پناہ گاہیں اور نفسیاتی خدمات یقینی بنانا
بچوں کی شادی کی کم از کم عمر پورے ملک میں 18 سال مقرر کرنا
ماریٹل ریپ اور محرم رشتوں کی جانب سے جنسی زیادتی کو واضح جرم قرار دینا
ایکوالیٹی ناؤ (Now Equality) ایک عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ہے جو خواتین اور لڑکیوں کے خلاف امتیاز کے خاتمے اور قانونی و نظامی اصلاحات کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے


