The news is by your side.

Advertisement

بابری مسجد کا فیصلہ تضادات سے بھرپور ہے: شاہ محمود

ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اقلیتوں پر جگہ تنگ کی جا رہی ہے، پاکستان بابری مسجد سے متعلق تضادات پر مبنی فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بابری مسجد کا فیصلہ کرتاپورراہداری کے کھلنے کے دن دیا گیا، یہ فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں بلکہ تضادات سے بھرپور ہے، ہم کرتارپورراہداری کھول کرخیرسگالی کا پیغام دے رہے ہیں جبکہ بھارت کالے قوانین سے انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے۔

انہوں نے بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آرایس ایس کا ہندوستان معرض وجود میں آرہا ہے، اب بھارت گاندھی اور نہرو کا بھارت نہیں رہا، ہم نے ہمیشہ بھارت سے بات چیت کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن مودی نے راہ فرار اختیار کی، بابری مسجد کے فیصلے کو نہیں مانتے۔

وزیرخارجہ کا نواز شریف کی طبیعت سے متعلق کہنا تھا کہ جان کی حفاظت کے لیے نوازشریف کو باہر جانا چاہیے، عدالت نے انہیں 8ہفتے کی ضمانت دی ہے، دعاگو ہیں اللہ تعالیٰ نوازشریف کو صحت دے، انہیں ہر دستیاب سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی، اللہ نوازشریف کو صحت دے اور وہ واپس آکر اپنی سیاست کریں۔

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر شاہ محمود نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق پٹیشن کو سنا ہی نہیں جارہا، گزشتہ روز کہا تھا بھارت ہمیں بھی شکریہ کا موقع دے، بھارت کشمیر سے کرفیو ہٹاکر ہمیں بھی شکریہ ادا کرنے کا موقع دے، 97روز سے کشمیر میں مسلسل کرفیو نافذ ہے۔

بابری مسجد کیس کا فیصلہ انصاف کا خون ہے، مشال ملک

یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا بھارتی حکومت کی زیرنگرانی بابری مسجد کی جگہ مندر بنے گا اور مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے۔

فیصلے میں سنی اور شیعہ وقف بورڈز کی درخواستیں مسترد کردی گئیں تھیں اور کہا گیا تھا کہ تاریخی شواہد کے مطابق ایودھیارام کی جنم بھومی ہے، بابری مسجد کا فیصلہ قانونی شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں