site
stats
اہم ترین

حافظ سعید کی نظربندی، پاکستان کو بھارتی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، وزارتِ داخلہ

اسلام آباد: وزاتِ داخلہ نے کہا ہے کہ بھارت حافظ سعید کے نام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، عالمی برادری کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے، عالمی برادری کی قرار داد کی روشنی میں حافظ سعید کے خلاف کارروائی کی گئی، اگر بھارت سنجیدہ ہے تو حافظ سعید کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم کرے۔

حافظ سعید کی نظر بندی کے حوالے سے بھارتی میڈیا پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزارتِ داخلہ نے کہا کہ حافظ سعید کے حوالے سے کسی بھارتی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، بھارت اگر سنجیدہ ہے تو اُن کے خلاف ثبوت پیش کرے۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں کی ، جماعت کے قائدین پر سفری پابندیاں عائد کرتے ہوئے اثاثے بھی منجمند کردیے گئے۔

وزاتِ داخلہ نے کہا کہ عالمی برادری کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے بھارت حافظ سعید کے نام کو صرف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور کبھی کو شواہد پیش نہیں کرتا جبکہ  پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے کی خاطر کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرتا۔

پڑھیں: ’’ حافظ سعید کیخلاف کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں، بھارت ‘‘

 وزا رت داخلہ نے مزید کہا کہ سمجھوتا ایکسپریس میں ملوث ملزمان کی آزادی اور تحقیقات کے جواب کا تاحال انتظار ہے، سمجھوتا ایکسرپیس میں ملوث ملزمان کیسے آزاد ہوئے؟ اور سانحے میں ملوث بھارتی لیفٹیننٹ کرنل اور انتہاء پسندوں کے خلاف بھارت نے کیا اقدامات کیے؟۔

یاد رہے کہ جماعت الدعوۃ کے امیر کو دو روز قبل لاہور میں اُن کی رہائش گاہ پر نظر بند کردیا گیا، گرفتاری سے قبل حافظ سعید نے کارکنان کے نام پیغام جاری کیا کہ کارکنان پر امن رہیں اور 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پروگرام کی تیاریاں کریں۔

مزید پڑھیں: ’’ حافظ سعید کی نظر بندی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے،آئی ایس پی آر ‘‘

حافظ سعید پر لگائی جانے والی پابندی کے حوالے سے پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ گزشتہ روز ڈی جی  آئی ایس پی آر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حافظ سعید کی نظر بندی کا معاملہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہے تاہم بھارت کسی دھوکے میں نہ رہے اُسے ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top