The news is by your side.

75 سال: کبھی پاکستان کی معیشت مستحکم تھی

برصغیر کے بٹوارے کو 75 سال بیت گئے۔ تقسیمِ ہند کے اعلان کے نتیجے میں معرضِ وجود میں‌ آنے والا پاکستان آج سیاسی انتشار، افراتفری دیکھ رہا ہے اور معاشی میدان میں‌ بھی اسے ابتری کا سامنا ہے۔

پاکستان کی معیشت ہمیشہ مد و جزر کا شکار رہی ہے، لیکن کیا اس کے قصور وار صرف حکم راں ہیں اور صرف سیاسی مصلحتیں اس تباہ حالی کی وجہ ہیں؟

ایک حد تک تو یہ بات درست ہے، مگر اس میں مختلف عوامل کارفرما ہیں اور کئی پہلوؤں سے ان کا جائزہ لینا ہو گا۔ اس ضمن میں‌ قومی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار اور ٹھوس حقائق پر مبنی بحث میں‌ ماہرینِ معیشت کی رائے ہی قابلِ توجہ ہوسکتی ہے۔ تاہم ایک بات یہ بھی ہے کہ دہائیوں پہلے پاکستانی مالیاتی اداروں میں مخلص اور قابل لوگ موجود تھے جنھوں نے ملکی معیشت کو سنبھالے رکھا۔ 1950 کی بات ہے جب پاکستانی معیشت مستحکم تھی، لیکن 1958 کے بعد صورتِ حال تبدیل ہوئی۔ ملک میں‌ دوسرا پانچ سالہ معاشی منصوبہ 1965 میں ختم ہوا اور اس وقت بھی ملک ترقی پذیر ممالک میں مستحکم حیثیت کا حامل تھا۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت جو ممالک پہلی دنیا (ترقی یافتہ ممالک) کا درجہ حاصل کر سکتے تھے، ان میں پاکستان بھی شامل تھا۔ پھر 1965 میں پاک بھارت جنگ نے معیشت میں بگاڑ پیدا کردیا، لیکن پاکستان جلد اس سے نکل گیا اور 1968 تک ترقی کی شرح دوبارہ سات فیصد سے زیادہ ہوگئی۔ اس کے بعد معاشی حالات بگڑنے لگے اور بعد کے برسوں میں ملک میں اصلاحات اور صنعتوں کو قومیانے سے معیشت کو نقصان پہنچا۔

اگر حکومتی کارکردگی کے تناظر میں‌ خراب معاشی حالات اور منہگائی میں اضافے کی بات کی جائے تو ہم دیکھتے آئے ہیں کہ ترقی کے دعوؤں اور عوام کی خوش حالی کے منشور کے ساتھ مرکز اور صوبوں‌ میں‌ حکومت بنانے کے والوں کی ترجیحات راتوں رات بدل جاتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں تمام وسائل اور سارا زور اپنے مخالفین کو کم زور کرنے اور اپنے مفادات کی تکمیل پر لگا دیتی ہیں جس میں ملک کا ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔

آج پاکستان کو معاشی میدان میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کبھی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی تو کبھی ڈالر کی اونچی اڑان بریکنگ نیوز کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس سیلابِ بلا خیز میں پاکستانی روپیہ خس و خاشاک کی طرح‌ بہہ رہا ہے، اور اس سے عوام براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ معاشی عدم استحکام اور اس حوالے سے بے یقینی کی فضا میں صنعتوں کا پہیہ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ تیل اور گیس کی ضرورت پوری نہ ہونے سے صنعتیں اور گھریلو زندگی مشکل ہوجاتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ملک کی درآمدات، برآمدات اور ہر قسم کی خرید و فروخت متاثر ہوتی ہے جب کہ پاکستان میں‌ بیروزگاری کی شرح بھی بڑھی ہے۔ ملک میں عوام کو دو وقت کی روٹی کا حصول دشوار ہوتا جارہا ہے۔ آٹا چینی، گھی تیل اور دیگر غذائی اجناس سمیت ضروریاتِ زندگی کی مختلف اشیا کے دام بڑھ رہے ہیں۔

یہ حالات ایک طرف بھوک اور بیروزگاری لوگوں کو قسم قسم کے جرائم اور دھوکا دہی کی طرف مائل کر رہے ہیں اور دوسری جانب بے بس اور مجبور لوگ خود کشی کررہے ہیں۔ اس مشکل وقت میں آج پاکستان آزادی کی پلاٹینم جوبلی منا رہا ہے۔

ادھر سرحد کے دوسری طرف بھی صورتِ حال کچھ مختلف نہیں ہے۔ بھارت کی معیشت بھی بحران کا شکار ہے۔ غربت، بدحالی اور بنیادی ضروریات سے محرومی بھارت کی اکثریت کا مسئلہ ہے اور حکومت معیشت کو سہارا دینے اور مالی خسارے کو سنبھالنے کے لیے تمام بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے۔ پاکستان کے عوام کی اس بدحالی، پستی اور محرومی کا ایک بڑا سبب سرمایہ دار، امرا اور وڈیرے ہیں اور یہی لوگ سیاسی جماعتوں میں‌ شامل ہیں اور اقتدار ملنے کے بعد ملکی اداروں‌ میں‌ پالیسی ساز کے طور پر اختیار کو استعمال کرکے فیصلہ کُن کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ حکم راں سرمایہ دارانہ نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور یہ وہ نظام ہے جسے برطانوی سامراج نے اس خطّے میں پنپنے کا موقع دیا اور یہ عام آدمی کی جیب سے پیسہ نکلوا لیتا ہے۔

75 سال گزر گئے، لیکن آج بھی پاکستان کے عوام روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضرورت اور پینے کے صاف پانی کو ترس رہے ہیں۔ عام آدمی عدالتوں سے انصاف، مریض علاج معالجے کی مفت اور بہترین سہولیات، معیاری اور مفت تعلیم کے علاوہ یکساں نصاب اور اس کی بنیاد پر جامعات میں‌ داخلہ اور بعد میں روزگار ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ دوسری جانب حکم راں طبقہ اور اشرافیہ کی دولت اور جائیدادوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں‌ احتساب کی کوئی روایت موجود نہیں‌ ہے اور اس حوالے سے موجود اداروں کا احتساب سیاسی دباؤ کی وجہ سے انتقامی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔ پاکستان میں‌ حکم راں طبقہ اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے امتیازی قوانین وضع کرنے اور تشکیلِ نظام کے ساتھ ضرورت پڑنے پر اپنے تحفظ کے لیے زبان، علاقے اور مذہب کا بے استعمال کرتا آیا ہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

ملک میں معاشی مشکلات اور حالیہ منہگائی کو موضوع بنائیں‌ تو گزشتہ برس ہر کاروبار میں قیمتوں میں جس رفتار سے اضافہ ہونا شروع ہوا وہ پچھلی دہائیوں میں نہیں دیکھا گیا تھا۔ دنیا کے کئی ممالک اور بڑی معیشتوں میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکا ہے جہاں گزشتہ ماہ افراطِ زر کی شرح 8.6 فیصد تک پہنچ گئی، جو دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت بلند ترین شرح ہے۔

پاکستان میں منہگائی کی شرح کا تعین ادارۂ شماریات کرتا ہے جس پر کئی سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ یہ ادارہ وزارتِ خزانہ کے ماتحت ہے جس کے منہگائی سے متعلق اعداد و شمار پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ ادارۂ شماریات حکومت کے دباؤ پر منہگائی کو کم ظاہر کرتا ہے اور حکومتیں‌ ان اعداد و شمار پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

منہگائی سے متعلق ایسی رپورٹیں‌ ملک کے مختلف علاقوں سے اکٹھے کیے جانے والے اعداد و شمار پر مبنی ہوتی ہیں۔ وفاقی ادارہ مختلف شعبوں کے اعداد و شمار اکٹھا کرکے اپنی ایک مفصل رپورٹ جاری کرتا ہے جس میں مہنگائی کی شرح کا تعین بھی کیا جاتا ہے۔

ادارۂ شماریات جس ماڈل کے تحت کام کرتا ہے، اس میں مہنگائی کی شرح تین طریقوں سے معلوم کی جاتی ہے۔ ان میں ایک ماہانہ بنیادوں پر کنزیومر پرائس انڈیکس کا جائزہ ہوتا ہے جس میں ماہانہ بنیادوں پر قیمتوں میں ردّ و بدل کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں ہونے والا ردّ و بدل قیمتوں کے خاص اشاریے کے تحت جاری ہوتے ہیں اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ تیسرا طریقہ ہول سیل پرائس انڈیکس ہے جس میں ماہانہ بنیادوں پر ہول سیل کی سطح پر قیمتوں میں ردّ و بدل کے اعداد و شمار کو دیکھتے ہیں۔ اس حوالے سے بی بی سی کی ایک معلوماتی رپورٹ بتاتی ہے کہ ادارۂ شماریات کے تحت پاکستان کے 35 شہری علاقوں اور 27 دیہی علاقوں سے قیمتیں اکٹھی کی جاتی ہیں۔ شہری علاقوں میں 65 مارکیٹوں اور اور دیہات میں 27 مارکیٹوں سے قیمتوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں 356 اشیا کی قیمتوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے جب کہ دیہات سے 244 چیزوں کی قیمتیں معلوم کی جاتی ہیں۔ ان اعداد و شمار کی بنیاد پر اوسط نکالنے کے بعد‌مہنگائی کی شرح بتائی جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں