اسلام آباد (30 نومبر 2025): پاکستان اور مصر دہشتگردی کے خلاف متحد ہوگئے جبکہ آپس میں سیاسی، دفاعی اور معاشی شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کر لیا۔
مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں غزہ کی صورتحال بھی زیر غور آئی، پاکستان غزہ جنگ بندی کیلیے اس کے کردار کو سراہتا ہے، مقبوضہ کشمیر اور افغانستان سمیت عالمی فورمز پر تعاون پر تبادلہ خیال ہوا، شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بات چیت کی، سیاسی، معاشی، دفاعی، ثقافتی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بزنس ٹو بزنس تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا، دو طرفہ تجارت کیلیے دستیاب مواقع بروئے کار لانے پر اتفاق ہوا، پاکستان 250 بزنس ہاؤسز کی فہرست مصر کو فراہم کرے گا، اگلے مرحلے میں اس فہرست کو 500 بزنس ہاؤسز تک توسیع دی جائے گی، پاکستان مصر بزنس کو نسل تشکیل دی جائے گی، پاکستان مصر بزنس فورم بھی قائم کیا جائے گا۔
’ملاقات میں غزہ سمیت خطے اور عالمی صورتحال کا جائزہ لیا۔ پاکستان مصر وزارتی اجلاس آئندہ سال بلانے پر اتفاق ہوا۔ 2010 کے بعد پہلی بار پاکستان مصر جوائنٹ منسٹریل کمیشن اجلاس 2026 میں منعقد کرنے پر اتفاق ہوا۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں سیاسی مشاورت پاکستان میں ہوگی۔‘
ڈاکٹر بدر عبدالعاطی
مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ پاکستان اور مصر کی دوستی باہمی مفاد اور احترام پر مبنی ہے، دہشتگردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کیلیے پاکستان سے تعاون کریں گے، سیاسی ڈائیلاگ اور معاشی شراکت داری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا، دفاع سمیت باقی تمام شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔
ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے کہا کہ مختلف کثیر الجہتی فورمز پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کو سراہتے ہیں، غزہ جنگ بندی معاہدے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، مصر اسرائیل فلسطین تنازع کا یو این قراردادوں کے مطابق حل چاہتا ہے، ہم سمجھتے ہیں تنازع فلسطین کا دو ریاستی حل ہی قابل عمل اور پائیدار ہے۔
’اسلام آباد اور پشاور میں دہشتگرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں، حملوں میں جانی نقصان پر پاکستان اور عوام سے تعزیت کرتے ہیں، مصر پاکستان کے ساتھ شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف کھڑا ہے، پاکستان اور مصر کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے دہائیوں پر محیط ہیں۔ سیاسی، معاشی، تجارتی، دفاعی اور تعلیمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف اپنے کامیاب ماڈل کی پاکستان سے مکمل شیئرنگ کی پیشکش کر دی، دہشتگردی کے خلاف مصر کی جامع حکمت عملی میں سکیورٹی کے ساتھ سماجی و معاشی اقدامات بھی شامل ہیں، اسلام آباد کے ساتھ مل کر انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف الازہر شریف کے پلیٹ فارم کے استعمال کی تجویز دی۔
ان کا کہنا تھا کہ مصر کا واضح مؤقف ہے فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہونا چاہیے، پاکستان اور مصر نے فلسطین پر مشاورت مزید بڑھانے پر اتفاق کیا، مصر نے پاکستان کو غزہ کی تعمیر نو کانفرنس میں بھرپور شرکت کی دعوت دی، توانائی، خوراک اور معاشی چیلنجز پر قریبی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زرعی شعبے اور فارماسیوٹیکل میں مواقع کی نشاندہی کی، پاکستانی سرمایہ کاروں کو مصر میں مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی، مصر نے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے میں گہری دلچسپی دکھائی، دورہ پاکستان دونوں ملکوں کے نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔


