تحریر: عرفان اللہ والا
پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ہر دس سال بعد ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرواتے ہوئے حکومت کی جانب سے متعدد ترغیبات اور اس کے استعمال کے حوالے سے رعایت بھی دی جاتی ہے۔ مگر جب عوام اسے استعمال کرنے لگتے ہیں تو حکومت ایسے اقدامات اور پالیسیاں اپناتی ہے جو اس ٹیکنالوجی کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔
نوّے کی دہائی میں پیٹرول کے مقابلے میں ڈیزل بہت سستا ہوا کرتا تھا۔ اس لئے مقامی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے ڈیزل انجن کے ساتھ کاریں متعارف کرائیں اس کے ساتھ ہی لوگوں نے اپنی پیٹرول گاڑیوں کو ڈیزل پر منتقل کرنا شروع کر دیا، مگر پھر ڈیزل کو پیٹرول سے مہنگا کر دیا گیا۔ اور عوام کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی طرح اس صدی کے آغاز پر عوام کو ایندھن کے طور پر سی این جی کے استعمال کی ترغیب دی گئی۔ اب عوام نے جو ڈیزل گاڑیوں سے پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کی طرف آئے تھے، سی این جی کٹس اپنی گاڑیوں میں نصب کر لیں اور اربوں روپے کا بزنس ہوا مگر چند سال بعد سی این جی کی آئے دن بندش اور اس کے مہنگا ہونے کی وجہ سے عوام دوبارہ پیٹرول کو بطور ایندھن استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے۔ گاڑیوں میں تو سی این جی کٹس نصب ہیں مگر ملک بھر میں سی این جی اسٹیشن اب بند پڑے ہیں۔
ملک میں بجلی کا بحران پیدا ہوا تو نوے کی دہائی میں فرنس آئل سے بجلی بنانے کی پالیسی اپنائی گئی جس کے بھاری بلوں نے عوام کی جیب کو کترنا شروع کیا۔ اس کے بعد آر ایل این جی اور درآمدی کوئلے پر مشتمل پاور پلانٹس لگائے گئے اور کہا گیا کہ فرنس آئل مہنگا ایندھن ہے، اور نئے پلانٹس سے عوام کو سستی بجلی ملے گی۔ مگر بجلی سستی کیا ہوتی روز بہ روز مہنگی ہونے کے علاوہ اس کی فراہمی بھی آج تک ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ عوام کو گرمی میں جہاں گھروں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ وہیں بجلی کی فراہمی میں کئی گھنٹوں کے تعطل کی وجہ سے کاروباری اور صنعتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ اس لوڈ شیڈنگ سے گھر بیٹھ کر کام کرنے والے، آن لائن مختلف ذرایع سے روزگار کمانے والے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ یعنی پاکستان میں بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی کے باوجود پاکستانی گھنٹوں بجلی سے محروم ہیں۔
ملک میں بجلی کی کمی اور دوسرے مسائل کے بعد حکومت کی جانب سے شمسی توانائی کے فروغ کی پالیسی اپنائی گئی۔ شمسی توانائی کو فروغ دینے کے لئے حکومت نے نیٹ میٹرنگ کا سلسلہ شروع کیا جس میں گھریلو استعمال کے لئے شمسی توانائی کے استعمال کے بعد اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کر دی جاتی ہے۔ اس دوران چین شمسی توانائی کے میدان میں آگے بڑھا اور اس نے سولر پینلز کی بڑے پیمانے پر تیاری شروع کی جس سے سولر پینلز کی قیمت تیزی سے کم ہوئی۔ ملک میں مہنگی اور کمیاب بجلی کے ستائے ہوئے عوام شمسی توانائی پر انحصار کرنے لگی اور اس کا استعمال بڑھا دیا۔ اس کو فروغ دینے کے لئے نیپرا نے 25 کلو واٹ تک کے نیٹ میٹرنگ نظام جو کہ گرڈ کو بجلی فراہم کرنے اور ضرورت پڑنے پر بجلی گرڈ سے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پر لائسنس کی شرط ختم کر دی جس کے بعد شمسی توانائی سے فائدہ اٹھانے میں عوام کی جانب سے تیزی آئی۔ ابھی یہ عمل شروع ہی ہوا تھا کہ گرڈ سے بجلی کی طلب اور رسد میں فرق پیدا ہونے لگا۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے انجینئروں اور اہلکاروں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق شمسی توانائی کے نیٹ میٹرنگ میں آنے سے قبل دن چڑھنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی طلب میں اضافہ ہوتا تھا۔ مگر اب یہ عمل منفی ہوگیا ہے۔ رات کے وقت بجلی کی انتہائی طلب ہوتی ہے۔ اور جیسے جیسے سورج طلوع ہوتا ہے۔ بجلی کی طلب کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ بجلی کی طلب کے اسی منفی عمل کے علاوہ نیٹ میٹرنگ کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو بھاری پڑنے لگی اور انہوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی کی وجہ سے انہیں فی یونٹ 3 سے 4 روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ جس کے بعد حکومت اور پالیسی سازوں نے نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظرثانی کی اور اس حوالے سے دی گئی مراعات کو بتدریج ختم کرنا شروع کر دیا۔ نیپرا نے آن گرڈ شمسی توانائی کا 25 کلو واٹ تک سسٹم لگانے پر لائسنس فیس 1000 ہزار روپے فی کلو واٹ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ختم کیا گیا سرخ فیتہ بھی بحال ہوگیا ہے۔ اس عمل سے عوام میں شمسی توانائی کے حصول اور گرڈ سے منسلک کرنے کا عمل تقریباً رک جائے گا۔
پاکستان میں جہاں ایک بڑی آبادی گرڈ سے منسلک ہے، وہیں اس کی تقریبا 25 فیصد آبادی ایسے دور دراز علاقوں میں رہتی ہے جہاں پر گرڈ کے ذریعے بجلی پہنچانے میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں یا اس کے وسائل ریاست کے پاس موجود نہیں ہیں۔ ایسے میں بیٹری پیک چھوٹے اور آزاد گرڈ یا گھروں پر ذاتی خرچ سے شمسی توانائی کا نظام لگانے سے اس آبادی کو نہ صرف بجلی کی دستیابی ممکن بنائی جاسکتی ہے بلکہ اس سے ان کے معیار زندگی، کاروبار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ مگر چونکہ حکومت اس وقت بجلی کے نظام میں شمسی توانائی سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس لئے وہ اپنی 25 فیصد آبادی کو بجلی کی سستی ترین رسائی کرنے میں خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کر رہی ہے۔
حکومت اور نیپرا کی جانب سے شمسی توانائی سے گریز کی وجہ سے آن گرڈ شمسی توانائی میں کمی ہوگی۔ ایسے میں جن افراد نے شمسی توانائی کا نظام نصب کیا ہوا ہے۔ ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ بیٹری نصب کرلیں کیونکہ گزشتہ چند سال میں سولر پینلز کے ساتھ ساتھ لیتھیم آئرن بیٹریوں کی قیمت میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں بیٹریوں کی قیمت میں کمی ہورہی ہے۔ اور یہ 700 سے کم ہو کر دس سال میں (2024ء تک) 140 ڈالر کلو واٹ ہوگئی ہے۔
مہنگی اور بجلی کی عدم فراہمی کے ستائے ہوئے پاکستانی عوام نے سال 2022ء سے 2024ء کے دوران 26 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے حامل سولر پینلز درآمد کیے ہیں۔ اور اب انہیں آف گرڈ سسٹم کو مؤثر اور قابل بھروسہ بنانے کے لئے لیتھیم آئرن بیٹریوں کی ضرورت ہے۔ سال 2025ء میں پاکستانیوں نے 30 کروڑ ڈالر مالیت کی بیٹریاں درآمد کی ہیں۔ مگر یہاں بھی حکومت کی پالیسی کی وجہ سے لیتھیم آئرن بیٹریوں کی ملک کے اندر تیاری کو فروغ نہیں دیا جارہا۔
اس وقت ملک میں لیتھیم آئرن بیٹریوں کی سالانہ طلب 6 گیگا واٹ ہے جو کہ سال 2031ء تک 51 ہزار گیگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔ اور اگر ان بیٹریوں کو ملک میں تیار نہ کیا گیا تو اس سے قیمتی زر مبادلہ بیرون ملک منتقل ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں لیتھیم آئرن بیٹریوں کے لئے خام مال موجود ہے۔ مگر اس کے لئے حکومت کو صنعتوں کو بتدریج مقامی سطح پر بیٹریوں کی تیاری پر لانا ہوگا۔ اس وقت تیار لیتھیم آئرن بیٹری پر کسٹم ڈیوٹی محض 1 فیصد کے قریب ہے کیونکہ چین کے ساتھ آزانہ تجارتی معاہدے میں یہ شامل ہیں۔ جب کہ اگر مقامی سطح پر بیٹریوں کی تیاری کی جائے تو لیتھیم آئرن سیلز کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 50 سے 55 فیصد تک ہے۔ اگر حکومت مقامی سطح پر لیتھیم آئرن بیٹریوں کی تیاری کی پالیسی دے تو سال 2031ء تک ملک کی مقامی سطح پر تیار ہونے والی بیٹریوں کی ایک بڑی صنعت کھڑی ہوسکتی ہے۔ پاکستان اس وقت لیتھیم کے علاوہ ان بیٹریوں میں استعمال ہونے والی دیگر معدنیات جیسا کہ گریفائیڈ، فاسفیٹ، میگنیشیم اور آئرن اوور دستیاب ہیں۔ مگر اس کے لئے حکومت کی جانب سے ایک جامع اور سرمایہ کار دوست پالیسی کی ضرورت ہے۔ پاکستان ان بیٹریوں کی مقامی تیاری سے نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرسکے گا۔ بلکہ یہ بیٹریاں ایسے ملک جہاں خام مال دستیاب نہیں ہے۔ انہیں باآسانی برآمد بھی کرسکتا ہے۔
اب حکومت کا کام ہے کہ وہ ملک میں لیتھیم آئرن بیٹروں کی صنعت کو فروغ دینے کے پالیسی اپناتی ہے یا پھر ان بیٹریوں کی درآمد جاری رکھنے کی پالیسی پر گامزن رہتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


