The news is by your side.

پاکستان انگلینڈ ٹیسٹ کی تاریخ، کچھ دلچسپ، انوکھے اور منفرد ریکارڈز

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین ٹیسٹ سیریز آج سے شروع ہو رہی ہے دونوں ٹیموں کے مابین ٹیسٹ کھیلنے کی تاریخ 66 برس پرانی ہے جس میں کئی دلچسپ اور انوکھے ریکارڈز بنے۔

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین آج سے تین ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز ہو رہا ہے جو دو طرفہ 28 ویں سیریز ہے۔ دونوں ممالک کے مابین 66 سالہ ٹیسٹ تاریخ میں کھیلی گئی 27 ٹیسٹ سیریز میں سے 11 انگلینڈ کے نام رہیں۔ 8 میں پاکستان فاتح رہا جب کہ 8 سیریز ڈرا ہوئیں۔ میچز کی بات کی جائے تو دونوں ٹیمیں 27 ٹیسٹ سیریز میں 86 میچز میں مدمقابل آئیں۔ انگلش ٹیم کو 26 فتوحات ملیں جب کہ قومی ٹیم نے 21 میں کامیابی حاصل کی جب کہ 39 میچز ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئے۔

پاکستان نے تین سیریز اپنے میدانوں میں اور تین ہی گوروں کے دیس میں جیتی ہیں جب کہ دو سیریز متحدہ عرب امارات میں اپنے نام کیں۔ انگلینڈ ٹیم نے اپنے ملک میں 9 سیریز جیتیں جب کہ پاکستان میں صرف دو بار انگلش ٹیم فتح کی ٹرافی اٹھانے میں کامیاب رہی۔ یو اے ای میں یہ ٹیم کوئی سیریز نہیں جیت سکی ہے۔

پاکستان کو بڑی اننگز میں سبقت:

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین اب تک کھیلے گئے 86 میچز میں پاکستانی بیٹنگ کے اعداد وشمار نمایاں ہیں۔ باہمی میچز میں ایک اننگ کا بڑا اسکور بھی قومی ٹیم کے بیٹرز نے بنایا اور متعدد بار یہ کارنامہ انجام دیا اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے انگلش ٹیم کے خلاف سب سے بڑا اسکور بھی ان کے میدان میں بنایا جب 1987 میں اوول کے میدان میں 708 رنز اسکور بورڈ پر سجائے۔ قومی ٹیم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچز میں دوسرا بڑا مجموعہ بھی اسی نے بنایا جو 2005 میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں بنایا گیا جب ٹیم نے 8 وکٹ پر 636 رنز بنا کر اننگ ڈیکلیئر کی تھی۔

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف تیسرا اور چوتھا بڑا اسکور بھی گوروں کے دیس میں بنایا۔ 1971 میں برمنگھم ٹیسٹ میں 7 وکٹوں پر 608 رنز اسکور کیے۔ اگلی سیریز میں 1974 میں اوول میں قومی ٹیم نے 7 وکٹوں کے نقصان پر 600 رنز بنا کر اننگ ڈیکلیئر کی۔

اگر انگلینڈ کی بات کریں تو اس کا پاکستان کے خلاف ایک اننگ کا سب سے بڑا اسکور 9 وکٹوں کے نقصان پر 598 رنز ہے جو ابوظہبی میں 2015 میں بنایا گیا۔

کم ترین اسکور کا دلچسپ ریکارڈ:

یہ ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کا ایک دوسرے کے خلاف کم تر اسکور ایک جیسا ہے جو 72 رنز ہے۔ قومی ٹیم نے 2010 میں برمنگھم ٹیسٹ میں 40 ویں اوور میں 72 پر آؤٹ ہوا تو صڑف دو سال بعد ہی پوری انگلش ٹیم 2012 میں ابوظہبی ٹیسٹ میں 37 ویں اوور میں 72 کے مجموعے پر ڈھیر ہوگئی۔

سنسنی خیز فتوحات:

سنسنی خیز فتوحات میں پاکستان نے 2005 میں ملتان ٹیسٹ میں 22 رنز سے فتح حاصل کی جب کہ 1954 میں انگلینڈ کو 24 رنز سے زیر کیا جب کہ انگلش ٹیم نے 1971 میں 25 رنز کے کم مارجن سے فتح حاصل کی۔

انفرادی بیٹنگ ریکارڈز:

دونوں ممالک کی ٹیسٹ سیریز میں اب تک سابق انگلش کپتان ایلسٹرکک کو دونوں ممالک کی جانب سے سب سے زیادہ 1719 ٹیسٹ اسکور بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے 20 میچز کی 36 اننگز کھیلیں بیٹنگ اوسط 49 سے زائد رہی۔ کک نے 5 سنچریز اور 8 نصف سنچریزبنائیں ان کا ہائی اسکور 263 رنز ہے۔

 

ایلسٹر کک 10ہزار رنز بنانے والے کم عمر بیٹسمین - Sport - Dawn News

 

دوسرا نمبر سابق پاکستانی کپتان انضمام الحق کا ہے۔ وہ 19 میچزکی 32 اننگز میں 42 کی اوسط سے 1584 اسکور کے جن میں 5 سنچرکاں اور 10 نصف سنچریاں شامل ہیں اور 148 ان کا سب سے زیادہ اسکور ہے۔  تیسرے نمبر پر بھی سابق پاکستانی کپتان محمد یوسف کے 14 میچزکی 24 اننگز میں 1499 رنز ہیں جو انہوں نے 62 کی قابل رشک اوسط سے اسکور کیے ان کا زیادہ سے زیادہ اسکور 223 ہے۔ انہوں نے 6 سنچریاں جڑیں۔

 

جارحانہ حکمت عملی سے حملہ کرنا ہوگا' - Sport - Dawn News

 

2006 کی سیریز میں محمد یوسف کے انگلش سر زمین پر 4 میچز میں بنائے گئے 631 رنز کسی بھی ایک سیریز کے سب سے بڑا اسکور ہے جوئے روٹ نے 2016 میں اپنے ہی ملک میں چار میچز میں 512 رنز بنائے تھے۔

 

سابق کرکٹر محمد یوسف کا بیٹا کتنا بڑا ہوگیا؟

 

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ، باؤلنگ ریکارڈز:

اگر پاکستان بولنگ کی بات کریں تو سب کے ذہن میں پہلے عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس کے نام آئیں گے لیکن قارئین کے لیے حیرت انگیز بات ہوگی کہ دنیائے کرکٹ کے ان تیز بولرز کے بجائے دو طرفہ سیریز میں بولنگ میں پاکستان کے مرحوم لیگ اسپنر عبدالقادر سب سے آگے ہیں۔ مرحوم عبدالقادر نے 1977 سے 1987 کے قلیل عرصے میں 16 میچز کی 28 اننگ میں 82 وکٹیں حاصل کیں جو اب تک ایک ریکارڈ ہے۔

انگلینڈ کے جمی اینڈرسن نے 2010 سے 2020 کے درمیان 18 میچز کھیلیے اور 34 اننگز میں 74 وکٹیں لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ پاکستان کیخلاف اینڈرسن کی یہ آخری سیریز ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ 9 وکٹیں لے کر زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ اپنے نام کرتے ہیں یا پھر اس ریکارڈ پر عبدالقادر مرحوم کا قبضہ برقرار رہے گا۔

بولنگ ریکارڈز کے میدان میں انگلش کھلاڑی اسٹورٹ براڈ 19 میچز میں 67 وکٹیں لے کر تیسرے، سابق قومی کپتان وسیم اکرم 18 میچز میں 57 اور وقار یونس 11 میچز میں 50 وکٹیں لے کر بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔

بولنگ انفرادی کارکردگی:

بولنگ میں انفرادی کارکردگی میں بھی پاکستانی لیگ اسپنر مرحوم عبدالقادر سب سے اوپر نظر آتے ہیں جن کی ایک اننگ میں بہترین بولنگ پرفارمنس 56 رنز کے عوض 9 وکٹیں ہے عبدالقادر نے 8 بار اننگ میں 5 یا اس سے زائد وکٹیں لیں جب کہ میچ میں 10 وکٹیں لینے کا اعزاز چار بار اپنے نام کیا۔ ایک سیریز میں عبد القادر کی 3 میچزمیں 30 وکٹیں 1987 کا کانامہ آج بھی سر فہرست ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ عبدالقادر کے یہ ناقابل یقین ریکارڈز مستقبل میں کون سا بولر توڑتا ہے۔

 

عبدالقادر دنیائے کرکٹ کو بھی افسردہ کر گئے

 

انگلینڈ کی جانب سے سابق کپتان این بوتھم کا ریکارڈ ایک اننگ میں 8 وکٹوں کا حصول ہے۔ کراس واکس انگلینڈ کے لیے 2016 میں چار میچز کھیل کر 26 وکٹ تک پہنچ سکے تھے۔

باہمی سیریز کے چند دیگر مفرد ریکارڈ:

مصباح الحق نے بطور کپتان انگلینڈ کے خلاف 10 میچز کھیلے جن میں سے 7 جیتے اور صرف دو ہارے جو باہمی سیریز میں اوسط کے حساب سے کسی بھی کپتان کی اچھی کارکردگی ہے جب کہ اینڈریو سٹائرس نے انگلش ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے سب سے زیادہ 11 میچز کھیلے جن میں سے 6 جیتے اور 4 ہارے۔

کسی بھی وکٹ پر بڑی شراکت کا ریکارڈ بھی پاکستان کے قبضے میں ہے۔ 2006 کے لیڈز ٹیسٹ میں محمد یوسف اور یونس خان نے تیسری وکٹ پر363 اسکور بنائے تھے۔

سب سے زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلنے والے کھلاڑی:

پاکستان کے سابق وکٹ کیپر وسیم باری کو باہمی سیریز میں سب سے زیادہ 24 ٹیسٹ میچز کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں