The news is by your side.

Advertisement

آج پاکستان جمود کے دور میں داخل ہو چکا ہے: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آج پاکستان جمود کے دور میں داخل ہو چکا ہے، ملک میں ابتری ہے اور افراط زر میں کمی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی، شاہد خاقان نے کہا کہ پاکستان اس وقت کم جی ڈی پی میں داخل ہو چکا ہے، 2018 میں 313 ارب ڈالر جی ڈی پی تھی آج 280 ارب ہے۔

ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال سے کیسے نکلا جائے گا، حکومت کے پاس اس کا کوئی روڈ میپ نہیں، گھر کی آمدن وہی رہے اور اخراجات 18 فی صد بڑھ جائیں تو کیا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ آج خارجہ پالیسی، ہماری قومی سلامتی اور خود مختاری بھی معیشت کے تابع ہے، آج بات پاکستان کی خود مختاری کی ہے، کیا اس حکومت کے خلاف احتجاج نہ ہو جس نے ملک کا یہ حال کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  معاشی مسائل سے نجات کیلئے مشکل فیصلے کیے جارہے ہیں، حفیظ شیخ

شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ جب ہم آئے 15 ہزار ارب کے قرضے تھے اب 25 ہزار ارب ہیں، ہم نے 5 سا ل میں جو قرض لیے اس حکومت نے 9 ماہ میں لے لیے، ملکی تاریخ میں روپے کی قدر میں اتنی کمی نہیں ہوئی، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 23 فی صد اضافہ کیا، 9 ماہ میں مہنگائی میں دگنا اضافہ ہوا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال حکومت کی آمدن میں 400 سے 500 ارب کی کمی متوقع ہے، گزشتہ کی نسبت اس سال بھی حکومت کے ریونیو میں 4 ہزار ارب ہی ہوں گے، ہماری 50 فی صد انکم درآمدات سے آتی ہے، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بھی ریونیو نہیں بڑھا، حکومت کا ایک پیسا اس سال نہیں بڑھ پایا، اگلے مالی سال میں مہنگائی کی شرح 12 فی صد پر ہوگی۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پچھلے مالی سال حکومتی اخراجات 5 ہزار 7 سو ارب تھے، اس دفعہ 7 ہزار ارب کے قریب ہیں، حکومتی اخراجات میں ایک ہزار ارب کا اضافہ ہوا، اخراجات میں کمی بھینسیں بیچنے سے نہیں ہوتی، مالی سال 2018 میں 576 ارب کی ترقی تھی، اس سال 403 ارب کی ترقی ہوئی، 75 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر کم خرچ ہوئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں