جمعرات, دسمبر 11, 2025
اشتہار

پاکستان: شہری آبادی میں اضافہ، ماحول اور انسانی صحت کیسے متاثر ہو رہی ہے؟

اشتہار

حیرت انگیز

دنیا بھر میں شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ انسانی آبادی بڑھ رہی ہے اور ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے شہروں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہے جن میں‌ انتظامی، مختلف مالی اور رہائشی مسائل بھی شامل ہیں، مگر ترقی پذیر ممالک میں، اور پاکستان جیسے ملک کی بات کریں‌ تو انسانی آبادی میں اضافے کے ساتھ حکومتی عدم توجہی، غفلت اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ماحول کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔

پاکستان میں دیہی علاقوں سے شہروں میں بسلسلۂ معاش و روزگار نقل مکانی کے باعث شہروں میں دباؤ بڑھ گیا ہے جہاں پرانے انفراسٹرکچر اور منصوبہ بندی کے بغیر رہائشی تعمیرات کی وجہ سے لوگوں‌ کو پہلے ہی کئی مسائل کا سامنا تھا۔ یہ ان حالات میں اور بھی خطرناک ہے جب کہ پاکستان ان ممالک میں‌ شامل ہے جنھیں ماحولیاتی تبدیلی سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اس کی مثال گزشتہ دو دہائیوں کے سیلاب اور 2022ء کے بعد رواں سال کی شدید بارشیں اور سیلاب ہیں۔

اس پس منظر کے ساتھ ہم پاکستانی شہروں میں ماحولیاتی مسائل کا جائزہ لیں تو معاملہ بہت پیچیدہ ہوچکا ہے اور صورت حال بہت خراب ہے۔ صرف شدید بارشیں اور سیلاب ہی نہیں‌ ماحولیات سے متعلق کئی باتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان میں‌ شور، زیر زمین پانی کی سطح، قلت آب، ذہنی صحت، خوراک اور دوسری چیزیں‌ شامل ہیں۔ پاکستان میں بڑے شہر تیزی سے پھیلتے جا رہے ہیں۔ پرانا انفراسٹرکچر کمزور یا ناکافی ہے، جہاں‌ ماحولیاتی نظام میں بگاڑ کے ساتھ لوگوں کی صحت متاثر ہورہی ہے۔ شہروں‌ میں ماحولیاتی مسائل کے اسباب کو جاننا اور انسانی آبادی پر ان کے اثرات کو سمجھنا ہی کافی نہیں‌ بلکہ اب وقت آچکا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس کا ممکنہ حل نکالیں اور حکمتِ عملی ترتیب دے کر اس پر باقاعدہ کام کیا جائے۔

شہری ماحولیات اور صحت کے اہم مسائل
فضائی آلودگی لاہور اور کراچی جیسے شہروں کا بڑا مسئلہ ہے جہاں ذرایع نقل و حمل میں چھوٹی بڑی گاڑیوں کا ایندھن ہی نہیں‌ کارخانوں کی چمنیوں اور دوسرے ذرایع سے پیدا ہونے والے دھویں سے فضا بری طرح‌ متاثر ہے۔ ان بڑے شہروں میں گاڑیوں اور صنعتی پلانٹوں کے علاوہ تعمیراتی سرگرمیاں بھی فضائی آلودگی میں اضافہ کی وجہ ہیں۔ فضائی آلودگی کے ساتھ لوگوں کو شور کی آلودگی اور زمین کو درختوں اور سبزے سے محرومی کا سامنا ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی ایسے مسائل جنم لے رہے ہیں جن کا براہِ راست انسانی صحت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق آلودہ فضا میں شامل ذرات (PM2.5، PM10) انسانی صحت پر برا اثر ڈالتے ہیں اور ان کی وجہ سے سانس کے امراض، دل کی بیماریاں عام ہیں اور دماغی صحت متاثر ہورہی ہے۔ ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی، آلودہ پانی، شور شہریوں کی صحت کو شدید متاثر کرتا ہے۔

اسی سے جڑا ایک اور مسئلہ پانی کی قلت کا ہے جو کہ شہری آبادی میں بے تحاشہ اضافے کی دین ہے۔ پانی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے زیرِ زمین کھدائی عام بات ہے۔ ایک تحقیقی مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں شہروں کے پھیلاؤ اور خطرے سے بھرپور انسانی سرگرمیوں نے زمینی اور سطح زمین پر پانی کو اگر آلودہ کیا ہے تو دوسری طرف زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے جس سے انفرااسٹرکچر کی بربادی اور شہری تعمیرات کے دھنسنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

فضلہ اور ٹھوس کچرے کا مسئلہ
شہری علاقوں میں ٹھوس اور ہر قسم کا فضلہ بے ہنگم تعمیرات، حکومتی اداروں کی غفلت، عوامی شعور نہ ہونے کی وجہ سے بڑھا ہے، لیکن اسے فوری اور منظم انداز سے اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا سسٹم مکمل طور پر کام نہیں‌ کرتا بلکہ پلاسٹک، الیکٹرانک فضلہ، گھریلو اور صنعتی کچرا مل کر زمین، پانی اور فضا کو کسی نہ کسی شکل میں آلودہ کر رہا ہے۔ ایک ماحولیاتی جائزے کے مطابق کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے علاوہ دوسرے چھوٹے بڑے شہروں میں بھی فضلہ اور ٹھوس کچرے کو اٹھانے اور سائنسی انداز میں اور حفظانِ صحت کے اصول کے مطابق ٹھکانے لگانے یا کارآمد بنانے کا نظام مؤثر نہیں‌ ہے جو کہ انسانی آبادی کو خطرے میں‌ ڈال رہا ہے۔

سبزہ اور قدرتی ماحول کی تباہی
شہروں میں آبادی کا اضافہ اور مسلسل دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف آنے والوں کی وجہ سے تعمیرات کا پھیلاؤ ہر قسم کے سبزے کے لیے خطرہ بڑھا رہا ہے۔ کراچی کی بات کی جائے تو پلازہ اور بڑے بڑے شاپنگ سینٹروں کے ساتھ ہر رہائشی پروجیکٹس اور فلیٹ تعمیر ہوتے نظر آتے ہیں جن کے لیے درختوں کو بے دریغ کاٹا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں‌ پارکس کی تعمیر اور سڑکوں کے کنارے ماحول دوست اور مفید ثابت ہونے والے درخت لگانے کا سلسلہ محدود ہے۔ یہ درخت، پارکس تعمیرات کے اس ہنگام میں ماحولیاتی توازن کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کی بدولت شور کی آلودگی کے ساتھ آب و ہوا اور گرمی کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن حکومتی عدم توجہی اور بے ہنگم تعمیرات ماحولیاتی نظام کو بگاڑ رہی ہے۔

اسباب و محرّکات
بے ضابطہ شہری ترقی (Unplanned Urbanization) نے بڑے شہروں میں ماحول اور انسانی آبادی پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ دراصل منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی میکانزم کا فقدان ہی اس کی بنیاد ہے۔ اس کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی، مسلسل نگرانی اور وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا۔ سائنس دانوں اور ماہرین تعمیرات کو بہم کرکے ماحولیاتی بے احتیاطی اور ضابطوں کے فقدان کو دور کرنا ہوگا اور حکومت کو چاہیے کہ وہ سختی سے قوانین کا نفاذ کرے اور ان افراد، کارخانہ داروں کو پابند کرے جو صنعتی فضلہ کے اخراج، بے ہنگم طریقے سے کیمیائی پانی کی نکاس کے ساتھ مختلف طرح سے فضا اور زمین کو نقصان پہچا رہے ہیں۔

شہری منصوبہ بندی اور اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں اور اس حوالے سے تعمیراتی رقبہ میں پارکس، سڑکوں پر گرین بیلٹس، اور ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی ترجیح دینے کے دوسرے اقدامات کی ضورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ انفراسٹرکچر کو وقتاً فوقتاً بہتر بنانے کے ساتھ جدید آبادیوں میں پائیدار اور ماحول دوست پراجیکٹس کی حوصلہ افزائی کرے اور جدید منصوبہ بندی کے ساتھ نئے شہر بسائے جائیں۔ اس کے ساتھ شہروں میں زیرِ زمین پانی کی سطح کی نگرانی اور بحالی کی کوششیں کرنا ہوں گی۔ شہر کے اندر اور مضافاتی علاقوں میں سبزے اور شجر کاری کو ترجیح دی جائے اور شور کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

فضلہ کی ری سائیکلنگ، کمپوسٹنگ، اور نکاس و اخراج کا منظم نظام دینا ہوگا جب کہ گاڑیوں اور صنعتوں کی جانچ، فٹنس کے ساتھ آلودگی پر سخت کنٹرول ضروری ہے۔ موجودہ دور میں‌ الیکٹرک بسوں کا فروغ ناگزیر ہوگیا ہے جس سے فضائی آلودگی اور شور بھی کم ہوگا۔

پاکستان میں یہ ماحولیاتی مسائل سنگین ہوچکے ہیں، مگر باقاعدہ منصوبہ بندی، باہمی تعاون، جدید مشینری اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام میں ماحولیات سے متعلق شعور اجاگر کر کے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ حکومت اس میں‌ نجی شعبہ سے بھی مدد لے سکتی ہے۔

(اس معلوماتی مضمون کی تیاری میں ماحولیاتی سائنس سے متعلق رپورٹوں سے مدد لی گئی ہے)

+ posts

سدرہ ایاز صحافتی اداروں اور مارکیٹنگ کمپنیوں سے وابستہ رہی ہیں، سیر و سیاحت، دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا ان کا وہ شوق ہے، جو ان کے نزدیک زندگی کو قریب سے دیکھنے، بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ شاعری کرتی ہیں اور مختلف موضوعات پر مضامین اور بلاگ لکھتی ہیں۔

اہم ترین

سدرہ ایاز
سدرہ ایاز
سدرہ ایاز صحافتی اداروں اور مارکیٹنگ کمپنیوں سے وابستہ رہی ہیں، سیر و سیاحت، دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا ان کا وہ شوق ہے، جو ان کے نزدیک زندگی کو قریب سے دیکھنے، بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ شاعری کرتی ہیں اور مختلف موضوعات پر مضامین اور بلاگ لکھتی ہیں۔

مزید خبریں