site
stats
بزنس

قرض کے عدم استعمال پر پاکستان کو 70لاکھ ڈالر جرمانہ

اسلام آباد : پاکستان کو ساڑھے چارارب ڈالر قرض استعمال نہ کرنے پر ایشیائی ترقیاتی بینک کو سترلاکھ ڈالرجرمانہ دینا پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو مخلتف منصوبوں کیلئے چھ ارب چالیس کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کیا، اس میں سے صرف ایک ارب اسی کروڑ ڈالر ہی استعمال کئے گئے ہیں، غیر استعمال شدہ فنڈز پر پاکستان کو کمیٹمنٹ فیس بھی ادا کرنی ہے، اس جرمانے کی شرح صفر اعشاریہ ایک پانچ فیصد ہے یعنی پاکستان لگ بھگ ستر لاکھ ڈالر زائد ادا کرے گا۔

نواز حکومت کے ترجیحی توانائی سیکٹر میں بھی فنڈز کا استعمال انتہائی سست رفتاری کا شکار ہے، دو ارب نوے کروڑ ڈالر کے قرض میں سے صرف چوالیس کروڑ ڈالر خرچ کئے گئے ہیں لیکن حکومت ان چھ ارب ڈالر پر سود ہرسال ادا کرتا ہے۔

گزشتہ سال بھی اے ڈی بی نے تاخیر کے باعث انتیس کروڑ چھتیس لاکھ ڈالر کے قرضے منسوخ کئے تھے، اے ڈی بی کے کنٹری ریویو کے مطابق بینک پاکستان کے سینتیس منصوبوں اور ایک سیکٹر ریفارم پروگرام میں مدد کر رہا ہے۔

دوسری جانب عالمی بینک کی سربراہ کی جانب سے بھی منصوبوں کی سست رفتاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

حکومت پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالر قرض کا معاہدہ

یاد رہے کہ گذشت ماہ حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے درمیان 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالر قرض کا معاہدہ طے پایا تھا، پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا میں مختلف مقامات پر پن بجلی کے ایک ہزار چھوٹے پاور پلانٹس لگائے جائیں گے، جن میں سے 7 فیصد (70) مائیکرو ہائیڈرو پاور پلانٹس ان گھروں کو دیئے جائیں گے جن کی سربراہ خاتوں ہوں گی۔

معاہدے کے تحت پنجاب کے 17 ہزار 400 اور خیبر پختونخوا میں 8 ہزار 187 اسکولوں اور بنیادی مراکز صحت میں شمسی توانائی کے آلات کی تنصیب شامل ہے، جس میں 30 فیصد صرف لڑکیوں کے اسکول ہوں گے، معاہدے میں دونوں صوبوں کی خواتین کو ان کی مہارت بڑھانے کے لیے ٹریننگ دینے کی شِق بھی شامل ہے۔ مجموعی طور پر معاہدے کے تحت 23 کروڑ 80 لاکھ ڈالر خیبر پختونخوا میں جبکہ 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر پنجاب میں خرچ کیے جائیں گے۔
۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top