The news is by your side.

Advertisement

مسعود پرویز: فلم انڈسٹری کا کام یاب ہدایت کار

ایک دور تھا جب پاکستان میں فلم انڈسٹری نے سنیما کے شائقین کو کوئل، ہیر رانجھا، انتظار، زہرِ عشق جیسی فلموں کے ذریعے متوجہ کیا اور اس وقت کے کئی فن کاروں اور فلمی صنعت کے مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں کے روزگار کا وسیلہ بنی۔ یہ معروف ہدایت کار مسعود پرویز کی یادگار فلمیں‌ ہیں۔ وہ 10 مارچ 2001 کو یہ دنیا چھوڑ گئے تھے۔ آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔

1918 میں امرتسر میں پیدا ہونے والے مسعود پرویز کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا۔ وہ مشہور ادیب سعادت حسن منٹو کے قریبی عزیز تھے۔

مسعود پرویز نے ہدایت کاری کے شعبے میں نام کمانے سے پہلے فلموں میں اداکاری کی۔ تاہم یہ قیامِ پاکستان سے پہلے کی بات ہے۔ اس زمانے میں فلم منگنی میں مسعود پرویز کو ہیرو کا کردار نبھاتے دیکھا گیا اور یوں وہ فلم انڈسٹری سے جڑے۔ بعد میں وہ ہدایت کاری کی طرف آگئے۔

فلم منگی کے بعد مسعود پرویز دو مزید فلموں غلامی اور میرا بائی میں بھی اداکاری کی، لیکن قیامِ پاکستان کے بعد جب یہاں فلمیں بننا شروع ہوئیں تو بطور ہدایت کار اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا اور کام یابی ان کا مقدر بنی۔

مسعود پرویز کی دیگر یادگار فلموں میں بیلی، مرزا جٹ، منزل، سکھ کا سپنا، جھومر، سرحد، مراد بلوچ، نجمہ، حیدر علی اور خاک و خون شامل ہیں۔

صدارتی ایوارڈ یافتہ مسعود پرویز نے متعدد نگار ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں