کراچی (17 مئی 2026): شہر قائد کے نوجوانوں کا رات میں گاڑیاں دوڑانے کا خواب پورا ہوا پاکستان میں پہلی بار فلڈ لائٹس ڈریگ ریس منعقد ہوئی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی کے نوجوانوں کا رات میں گاڑیاں دوڑانے کا خواب پورا ہوا۔ پاکستان میں پہلی بار فلڈ لائٹس ڈریگ ریس ہوئی، جس میں ملک بھر سے 60 سے زائد ڈروائیرز نے شرکت کی۔
شیروانی اسپورٹس گلوبل کے تحت ڈی ایچ اے سٹی کے ولوچی ٹریک پر ڈریگ ریس کا انعقاد کیا گیا۔ 200 میٹر کے ٹریک پر ہونے والی اس ریس میں 60 گاڑیاں دس مختلف ڈریگ ریس کٹیگریز میں ایکشن میں نظر آئیں۔
ڈریگ ریس میں جہاں نوجوان ڈرائیورز کی دلچسپی نظر آئی، وہیں برق رفتار گاڑی چلانے کے شوقین 60 سال سے زائد عمر کے ڈرائیورز نے بھی خوب جان ماری۔
پہلی ڈریگ ریس میں لیجنڈری ڈرائیورز نادرمگسی، رونی پٹیل اور شجاعت شیروانی بھی ایکشن میں نظر آئے۔
طارق خان فاسٹیس ٹائم آف دا ڈے کا اعزاز جیت کر فاتح رہے۔ انہوں نے 200 میٹر کا فاصلہ 7 اشاریہ 6 صفر سیکنڈ میں طے کیا۔
نادر مگسی نے کہا کہ فلڈ لائٹس میں ڈریگ ریس کا انعقاد ایک خواب لگ رہا ہے۔ یہ موٹر اسپورٹس میں نئے دور کا آغاز ہے۔
شجاعت شیروانی نے کہا کہ آٹو کراس کے بعد ڈریگ ریس کے انعقاد سے پاکستان میں موٹر اسپورٹس کا فیوچر روشن ہو گیا۔ پہلی ڈریگ ریس میں حیرت انگیز طور پر 50 سے زائد انٹری موصول ہوئیں۔
انہوں نے ہر ماہ فلڈ لائٹس میں دو ریسیز کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایک آٹو کراس اور دوسری ڈریگ ریس ہوا کرے گی، دونوں ریسز کا آغاز علیحدہ علیحدہ کریں گے۔
واضح رہے کہ ڈریگ ریس میں دو برق رفتار گاڑیاں ایک ساتھ دوڑتی ہیں۔ 200 میٹر ٹریک پر کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، جس سے گاڑیوں کی رفتار 200 کلومیٹر سے بھی اوپر چلی جاتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


