ہفتہ, اپریل 11, 2026
اشتہار

وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط پوری کردی

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط پوری کردی ہے۔

ایف بی آر نے گریڈ 17 اور اوپر کے افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کے رولز بنادیے ہیں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت قواعد میں اہم ترامیم متعارف کرادی گئی ہیں جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سول سرونٹ کی جگہ لفظ پبلک سرونٹ کا لفظ شامل کردیا گیا ہے، قواعد میں پبلک سرونٹ کی نئی تعریف بھی شامل کردی گئی ہے۔

گریڈ 17 اور اوپر وفاقی، صوبائی، خود مختار اداروں اور کارپوریشنز کے افسران شامل ہیں، حکومتی ملکیتی کمپنیوں کے افسر بھی نئی تعریف میں شامل ہوں گے۔

ایف بی آر رولز کے مطابق قومی احتساب آرڈیننس کے تحت مستثنیٰ افراد شامل نہیں ہوں گے، نئے قواعد کا مقصد اثاثہ جات شیئرنگ نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ قواعد کو جامع اور ہم آہنگ بنانے کے لیے ترامیم کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل  آئی ایم ایف نے پاکستان میں گورننس اور بدعنوانی سے متعلق رپورٹ جاری کی تھی جس میں پاکستان میں مسلسل بدعنوانی کے خدشات کی نشاندہی کی گئی۔

آئی ایم ایف نے 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اصلاحات سے پاکستان کی معیشت 5 سے 6.5 فیصد تک بہتر ہوسکتی ہے۔

رپورٹ میں اہم سرکاری اداروں کو حکومتی ٹھیکوں میں خصوصی مراعات ختم کرنے کی سفارش کی گئی اور کہا گیا تھا کہ ایس آئی ایف سی کے فیصلوں میں شفافیت بڑھائی جائے۔

رپورٹ میں حکومت کے مالیاتی اختیارات پر سخت پارلیمانی نگرانی کی سفارش کرتے ہوئے انسدادِ بدعنوانی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں