اسلام آباد : حکومت نے بجلی کے واجبات کا 1225 ارب کے سرکلر ڈیٹ اتارنے کا معاہدہ کرلیا، سرکلر ڈیٹ عوام پر سرچارج سے ہی ختم کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے بجلی کے واجبات کا 1225 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ اتارنے کا معاہدہ کرلیا، جس کے بعد آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی اہم شرط بھی پوری ہوگئی۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے میں کہا گہا ہے کہ حکومت کا پاور سیکٹر کا گردشی قرض کا بوجھ عوام پر ہی آئے گا اور پاور سیکٹر کا گردشی قرض عوام پر سرچارج کے ذریعے ختم کیا جائے گا تاہم بجلی صارفین پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔
حکومت پہلے سے عائد 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ سرچارج کو جاری رکھے گی ، بجلی صارفین پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور ری پیمنٹس پہلے سے عائد سرچارج کے ذریعے ہی کی جائیں گی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم کے ٹاسک فورس کی قیادت میں سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کا یہ تاریخی معاہدہ توانائی کے دیرینہ مسائل حل کرنے کی جانب بڑی پیش رفت ہے، معاہدہ اسٹیٹ بینک، 18 بینکوں اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی شراکت سے طے پایا ہے۔
معاہدے کے تحت 660 ارب روپے کے پرانے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ شامل ہے جبکہ 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے لیے فراہم کی جائے گی، اس کے ساتھ ہی 660 ارب روپے کی خود مختار ضمانتیں کھلنے کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق اس معاہدے سے زرعی شعبے، ایس ایم ایز، تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس معاہدے کو مالیاتی نظم و ضبط کی بحالی کا فیصلہ کن قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی اجتماعی قیادت اور ٹیم ورک کی بہترین مثال ہے اور حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات یقینی بنائے گی۔
م
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


