The news is by your side.

Advertisement

پاکستان ہاکی فیڈریشن کھلاڑیوں کی مقروض

وطن کی خدمت کے جذبے سے سرشار کھلاڑی چھ سال سے سنٹرل کنٹریکٹ کے منتظر

قومی کھیل ہاکی افق کو چھو کر اب تنزلی کی جانب بڑھتاجارہا ہے۔ کیا اسکی وجہ ٹیلنٹ کی کمی ہے ؟، سہولیات کا فقدان؟ یا پھر کچھ اور۔ اصل مسئلہ کھلاڑیوں کو معاوضوں کی عدم ادائیگی ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی موجودہ انتظامیہ ہو یا ماضی کے عہدیداران ، شاہ خرچیوں کے لیے فنڈز کی کمی دیکھنے میں نہ آئی۔ لیکن جب بات کھلاڑیوں کے حقوق پرآکر رکی تو جیبیں خالی ہونے کا راگ الاپ دیا جاتا ہے۔

ایسی صورتحال میں کھلاڑی کیا دل و جان سے ملک کی کے لیے کھیل سکیں گے۔ ۔ ۔ بالکل نہیں؟ ذہنی اذیت کے شکار ہونا ایک فطری عمل بن جاتا ہے۔ کھلاڑی کو یہی فکر لاحق رہتی ہے کہ گھریلو اخرجات کیسے برداشت کیے جائیں۔ گھر کا چولہا بجھنے کی نوبت آجاتی ہے ملک کے لیے فتح حاصل کرنے کا حوصلہ پست اور جذبہ بھی ٹھنڈا پڑنا شروع ہوجاتا ہے۔

Pakistan Hockey Federationموجودہ پی ایچ ایف انتظامیہ کھلاڑیوں کی مقروض دکھائی دیتی ہے۔ عہدیداروں کے چہرے اور نام بدل گئے لیکن ریت وہی برقرار ہے۔ خود کھاؤ اور دوسروں کو ٹھینگا دکھاؤ۔ چیمپیئنز ٹرافی دوہزار اٹھارہ کی تیاریوں کے لیے پاکستان ٹیم کا تربیتی کیمپ مرحلہ وار ایبٹ آباد سے ہوکر کراچی اور پھر ہالینڈ تک جاری رہا۔ روزانہ کی بنیاد پر فی کھلاڑی ایک ہزارروپے ڈیلی الاؤنس ملنا تھے جو نہ مل سکے۔ حتی کہ میگا ایونٹ کے لیے منتخب اسکواڈ بھی پندرہ ہزار روپے کے ڈیلی الاونس سے محروم ہے۔ تخمینہ لگایا جائے تو تربیتی کیمپ سے لے کر چیمپیئنز ٹرافی کے اختتام تک فی کھلاڑی تقریبا تین لاکھ روپے تک کی رقم بن جاتی ہے، جس کا کھلاڑیوں کو بے صبری سے انتظار ہے۔

فنڈزکی کمی؟


ناقص کارکردگی پر حکومت کی جانب سے گرانٹ روک دینا ایک نیا بہانا سامنے آیا ہے۔ پیسوں کی کمی کے باعث انٹرنیشنل معیار کا عبدالستارایدھی ہاکی اسٹیڈیم اس مرتبہ ایشین گیمز کی تیاری کے لیے ممکنہ کھلاڑیوں کا میزبان نہیں ہے بلکہ چیف سلیکٹر اصلاح الدین کی زیر نگرانی چلنے والی اصلاح الدین اکیڈمی اب رہائش سمیت تربیتی کیمپ کے لیے منتخب کی گئی ہے۔

مالی مشکلات سے دوچار کھلاڑیوں کی جانب سے اب ایشین گیمز کے بائیکاٹ کا امکان بڑھ گیا ہے۔ سینئر اور جونیئر کھلاڑی مستقبل کی حکمت عملی بنارہے ہیں۔ آئندہ ماہ اگست میں ایشین گیمز انڈونیشیا میں شیڈول ہیں۔ کھلاڑی اسی سوچ میں مبتلا ہیں کہ اس مرتبہ بھی ڈیلی الاؤنس ملے گا یا پھر سے جھوٹے وعدوں اور دلاسوں پر انتظامیہ کے سامنے سرتسلیم خم کرکے کسمپرسی کے عالم میں ملک کی نمائندگی کرنا پڑے گی۔

سنہ 2012میں جب سیکریٹری پی ایچ ایف کی کرسی آصف باجوہ کے پاس تھی ، اس وقت کھلاڑیوں کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اے کیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کو پچاس ہزار روپے، بی کیٹیگری کے لیے چالیس ہزار روپے اور سی کیٹیگری کے لیے تیس ہزار روپے کا اعلان ہوا تھا۔ جونیئر کھلاڑیوں کو پندرہ ہزار روپے کا وظیفہ ملنا تھے۔ آصف باجوہ کا دور گزر گیا، پھر رانا مجاہد آئے۔۔ وعدوں اور دلاسوں کا سلسلہ چلتا رہا، پاکستان کی عزت کا نعرہ لگتا رہا، لیکن کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ مل نہ سکا۔ شہباز سینئر کے دور میں بھی ایسے دعوؤں کی صدائیں گونجتی رہیں۔ چھ سال بیت گئے لیکن ہر حال میں ملک کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑی آج بھی اپنے حقوق کے منتظر ہیں۔

اس دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن ان چیف کی جانب سے فنڈز کا اجرا بھی ہوا مگر انتظامیہ فنڈز کی کمی کا آنسو بہاتی رہی ہے۔ اگر واقعی مالی مشکلات کا سامنا ہے تو غیر ملکی کوچز کے اخراجات کیسے برداشت کیے جارہے ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ کس بنیاد پر کھلاڑیوں کے فنڈز کو شاہ خرچیاں بنا کر اڑا رہی ہے۔ اس کا جواب کون دے گا۔ ۔ چھ سال کے لحاظ سے سینٹرل کنٹریکٹ کی رقم کا تخمینہ لگایا جائے تو فی کھلاڑی تقریبا پچیس سے تیس لاکھ روپے بن جاتے ہیں اور پاکستان ہاکی فیڈریشن ، روکھی سوکھی کھا کر وطن کی نمائندگی کرنے والے ان محبِ وطن کھلاڑیوں کی مقروض ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں