بدھ, مئی 20, 2026
اشتہار

وہ موٹر مکینک جس نے اپنے سوزِ دروں سے ایک ادبی گھروندا تعمیر کیا

اشتہار

حیرت انگیز

پرانی داستانوں میں ہم نے ایسے قصے بارہا پڑھے ہیں جن میں لوگ اندھیرے غاروں اور سرنگوں میں چلتے گئے، چلتے گئے اور اچانک ایک چمکتے جگمگاتے محل میں نکلے جس کے طاقوں میں ہیروں کے، نیلم، پکھراج اور زمرد کے اتنے ڈھیر لگے تھے کہ ہوا کے ذرا سے جھونکے سے بھی یہ ہیرے اور موتی فرش پر یوں گرنے لگتے تھے جیسے بہت بڑے نقارے پر بارش کی موٹی موٹی بوندوں کے ساتھ چھوٹے بڑے اولے بھی گرا کرتے ہوں۔

کچھ ایسا ہی ایک منظر ہم نے دکن کی سطح مرتفع پر آباد گنبدوں، میناروں، فصیلوں، محرابوں باغوں اور فواروں کے شہر حید آباد میں بھی دیکھا۔

باغِ عامّہ کے سامنے ایک گلی میں پہنچ کر ہم ایک ٹوٹی پھوٹی ادھوری اور پرانی عمارت میں داخل ہوئے۔ بالٹیوں کو بھرنے والی ٹونٹیوں سے ٹکراتے اور ربڑ کے پائپوں کو پھلانگتے، بوسیدہ اور پُرپیچ سیڑھیوں پر چڑھتے۔ نیچی چھتوں سے سر ٹکرا جانے کے خوف سے جھکے جھکے، ہم اس آدھی پکی، آدھی کچی عمارت کی چھت پر پہنچے اور وہاں بعد میں تعمیر کیے گئے نسبتاً نئے اور کشادہ کمرے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مچانوں پر اور طاقوں میں کتابیں ہی کتابیں چنی ہیں۔ رسالوں، دستاویزوں، قلمی نسخوں، بھاری بھرکم جلدوں اور وزنی مطبوعات کے وہاں ڈھیر لگے ہیں اور ان کو چن چن کر سجانے والا ایک شخص سہما بیٹھا ہے کہ کہیں ہوا کا کوئی ذرا سا جھونکا انہیں اڑا نہ لے جائے۔ یہ اسی سہمے ہوئے شخص کی داستان ہے۔

محمد عبدالصمد خاں پیشے کے اعتبار سے موٹر مکینک تھے مگر ذوق کے اعتبار سے کتابوں کے شیدائی تھے۔ ہفتے بھر موٹروں کی مرمت کرتے تھے اور چھٹی والے دن نہ معلوم کہاں کہاں کی خاک چھان کر کتابیں جمع کیا کرتے تھے۔ آخر یہ ہوا کہ اس دور میں نئے زمانے کی تیز رفتار کاریں پیچھے رہ گئیں اور پرانے زمانے کی بو جھل کیابیں آگے نکل گئیں۔ عبدالصمد خاں نے اپنا موٹر گیراج بند کیا اور اپنے کتب خانے کو اردو ریسرچ سینٹر کا نام دے کر اسے تحقیق اور مطالعے سے دل چسپی رکھنے والے عام لوگوں کے لیے کھول دیا۔

صرف دس بارہ برسوں میں وہ سات ہزار کتابیں، بتیس ہزار رسالے، پانچ سو قلمی نسخے، دو سو سفرنامے، ڈھائی تین سو تذکرے، پچاس لغات اور ان گنت کتابچے جمع کر چکے ہیں۔ اور نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج سیکڑوں طالبِ علم اور اساتذہ، محقق اور مدیر ان کے کتب خانے سے فیض اٹھا رہے ہیں مگر یہ داستان کچھ اتنی خوشگوار بھی نہیں۔ میں عبدالصمد صاحب کے کتب خانے میں پہنچا اور اسے دیکھنے کا اشتیاق ظاہر کیا تو وہ مجھے ساتھ لے کر چلے۔ چلتے جاتے تھے اور کتابوں کی باتیں کرتے جاتے تھے، کہنے لگے:

یہ دیکھیے، خواتین کے رسالے ہیں جن کی تعداد ساڑھے تین ہزار کے قریب ہے، اس کے بعد یہ اردو میں طنز و مزاح کی کتابیں ہیں۔ ان کی تعداد تقریبا ڈھائی سو ہے۔ اس سے آگے ڈرامے کی اور فنِ ڈرامہ کی کتابیں ہیں۔ اور یہ نیچے قدیم داستانیں ہیں۔ ان کا بھی اتنا بڑا ذخیرہ شاید ہی کسی کے پاس ہو۔ اس طرف مذہبی کتابیں ہیں۔ ادھر تاریخ ہے۔ اور یہ شعرا کے تذکرے ہیں۔ ان کی بھی اتنی بڑی تعداد شاید ہی کہیں ہے۔ ان کی کل تعداد پونے تین سو ہے۔ ادھر یہ مختلف رسالے ہیں۔ ان کو جہاں جگہ ملی ہے وہیں رکھ دیے گئے ہیں۔ اور یہ پوری الماری سیرت، سوانح اور خود نوشت سوانح کے لیے مخصوص ہے۔ اس طرف قدیم غزل گو شعراء کا کلام ہے اور ان کا انتخاب ہے۔ اور ادھر نظمیں، مثنویاں، منظوم داستانیں وغیرہ ہیں۔

اس کے بعد یہ انیسویں صدی کی کتابیں ہیں۔ ان میں زیادہ تر مسودے ہیں۔ مثلاً یہ چراغ علی صاحب کے اٹھائیس مسودے ہیں۔ اسی طرح یہ اعلی حضرت نظام دکن کا کلام ہے جو گنگ کوٹھی سے استاد جلیل کے پاس جاتا تھا۔ اخباروں میں شائع کرنے کے لیے۔ یہ اس کا پورا فائل ہے۔ یہ کشن پرشاد شاد کا کلام ہے جس کی حیدر یار جنگ اور ضیا یار جنگ نے اصلاح کی ہے۔ اسی طرح اس الماری میں بھی مسودے بھرے ہیں، جو میں ابھی تک پوری طرح سے ٹھیک نہیں کر سکا۔اب یہ رسالے ہیں۔ ان کے میں نے الگ الگ فائل بنا دیے ہیں۔ مثلاً نگار ہے۔ نگار کا میرے پاس مکمل سیٹ ہے۔ یعنی 1922ء سے لے کر اب تک۔ اسی طرح اورنگ آباد کا مجلّۂ اردو ہے جو بعد میں پاکستان سے بھی شائع ہوتا رہا۔ اس کے 1956ء تک مکمل فائل یہاں موجود ہیں۔

یہ غالبیات پر ساری کتابیں ہیں اور ادھر اقبال پر شائع ہونے والی کتابیں ہیں۔ رسالوں نے جو غالب نمبر شائع کیے ہیں۔ اُن کی تعداد ۱۲۵ ہے۔ اقبال نمبر بھی اسّی کے قریب ہیں۔ یہ خاص گوشہ ہے مصنفین کی دستخط شدہ کتابوں کا۔ ان پر بہت دل چسپ فقرے بھی لکھے ہیں۔ یہ تنقید تحقیق اور حوالے کی کتابوں کا پورا گوشہ ہے۔ اوپر رپورٹیں ہیں۔ یہ مختلف اردو اور تعلیمی انجمنوں کی رپورٹیں ہیں۔ جیسے یہ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی 1890ء سے لے کر 1904ء تک کی مکمل رپورٹیں ہیں۔ اسی طرح علی گڑھ تحریک کی رپورٹیں اور خطبات یہاں جمع ہیں۔ ادھر سفر نامے ہیں۔ یہ کیٹلاگ ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان کے سبھی کتب خانوں کے تاجرانِ کتب کے کیٹلاگ ہیں۔ میرے پاس جو پہلی فہرستِ کتب ہے وہ 1882ء کی ہے۔

اور یہ دیکھیے قلمی نسخے ہیں۔ وہ اوپر سب اردو کے ہیں۔ نیچے فارسی کے ہیں۔ اور سب سے نیچے عربی مسودے ہیں۔ ادھر یہ تینوں الماریاں رسائل کی ہیں۔ اور یہ وہ کچرا ہے جو میں صاف نہیں کر سکا۔ رسائل کی تعداد بہت ہے۔ ہم نے ابھی تک ۳۲ ہزار کی فہرست بنا لی ہے۔ انیسویں صدی کے جتنے بھی اہم رسالے تھے ان کی ایک آدھ کاپی تو آپ کو یہاں ضرور مل جائے گی۔ ان میں سے بعض تو بالکل گمنام ہیں۔ سرسید کے تہذیب الاخلاق کے پانچ سال کے فائل میرے پاس ہیں، مولانا آزاد کے الہلال اور البلاغ کا مکمل فائل ہے۔ زمانہ کے مکمل پرچے اب کسی کے پاس نہیں، میرے پاس وہ تقریباً مکمل ہیں۔ میں نے صمد صاحب سے پوچھا کہ اپنی یہ لائبریری قائم کرنے کا خیال کب آیا آپ کو؟ میں نے سوچا تھا کہ وہ آٹھ دس سال کی بات کریں گے لیکن وہ کہنے لگے: "میں جس زمانے میں جامعہ ملیّہ دہی کی جماعت دوّم اور سوئم میں پڑھتا تھا، اُس وقت جو کتابیں مجھے انعام ملتی تھیں یا جو میں خریدتا تھا وہ کتابیں اب تک میرے پاس محفوظ ہیں۔ اور اس کے بعد ہر دور میں کتابیں جمع کرتا رہا۔ دو سال پیشتر لندن سے ڈیوڈ میتھیوز صاحب کے آنے کے بعد ہی یہ خیال ہوا کہ ہم اس کو ایک ریسرچ سینٹر میں تبدیل کریں تا کہ عام لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مگر اب افسوس ناک بات یہ ہے کہ میں خود اس سے تنگ آگیا ہوں۔ میں شاید بہت جلد اسکول بند کر دوں۔”

ان کی یہ بات سن کر میں چونک پڑا اور پوچھا وہ کیوں؟

کہنے لگے،”بھئی یہ تو میرے لیے بالکل ناقابلِ برداشت ہو گیا ہے۔ مثلاً یہ مخطوطے اور قلمی نسخے ہیں، ان کو میں اگر محفوظ کرنے کی کوشش کروں تو میرے تیس چالیس ہزار روپے خرچ ہو جائیں گے۔ میرے بجٹ کا مسئلہ بھی عجیب و غریب ہے۔ کتابیں میں اس طرح خریدتا ہوں کہ میں اگر کھانا کھانے جارہا ہوں اور راستے میں کوئی کتاب فروخت ہورہی ہو تو سوچتا ہوں کہ چلو بھئی آج رات کا کھانا نہ سہی، کل ناشتہ ہی کر لیں گے۔ یہ سوچ کر کتاب خرید لیتا ہوں۔ مگر اس طرح کیابیں تو میں نے بہت جمع کر لی ہیں لیکن ان کو رکھنا اور حفاظت سے رکھنا میرے لیے ناممکن ہو گیا ہے؟

اس پر میں نے کہا کہ یہ تو بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ اس کے پیچھے بڑی محنت ہے اور لگن اور اشتیاق ہے جن کے بغیر کتب خانہ نہیں بنتا۔ اس کے بعد آپ اتنی آسانی سے اسے کیسے اپنے آپ سے جدا کر سکتے ہیں؟

اس پر صمد صاحب کہنے لگے، "صاحب اب مشکل تو یہ ہے کہ یہاں کوئی دل چسپی نہیں لیتا۔
اس ریسرچ سینٹر کی کمیٹی میں آپ جو نام دیکھیں گے وہ بہت بڑے بڑے لوگوں کے ہیں لیکن مجھے افسوس ہے کہ دو سال کے عرصے میں کسی نے بھی آکر یہ نہیں پوچھا کہ ادارہ کیسے چل رہا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ فوٹو کاپی کا ہے۔ صفحات کے عکس منگائے جاتے ہیں۔ ہندوستان کے تعلیمی اداروں سے اور پاکستان سے مواد کے لیے بہت خطوط آتے ہیں اور خدا کے فضل سے ہم نے اب تک سبھی کو حسبِ خواہش مواد بھجوایا۔

میں نے پوچھا۔ بالکل راہِ خدا میں؟

ہنس کر کہنے لگے۔ "راہِ خدا کہیے یا ذوق کی تسکین کہیے۔ لیکن اب تھک گیا ہوں۔ اور آخر میں انہوں نے سارا بھید خود ہی کھول دیا۔ بولے: دراصل سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آدمی ہر چیز کو برداشت کر لیتا ہے، مجھے جو سب سے بڑی شکایت ہے وہ یہ کہ یہاں کا جو ادبی حلقہ ہے، وہ مجھے موٹر مکینک سے اوپر ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ ایک بڑی عجیب بات پائیں گے آپ کہ اساتذہ بھی جن کے لڑکے میرے پاس تحقیق کرتے ہیں اور پورا مواد حاصل کرتے ہیں وہ بھی کبھی میرا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ارے بھئی وہ مکینک صاحب، ان کو کیا پتہ بس کتابیں جمع کر لی ہیں تھوڑی سی، یہ رویہ بڑا تکلیف دہ ہے؟”

تو یہ تھا عبدالصمد صاحب کا کتب خانہ جس کے متعلق کسی نے کیا اچھی بات کہی کہ کہنے کو یہ ادارہ ہے مگر اسے ایک فرد کے اضطراب سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جس نے اپنی تنہا روی اور سوزِ دروں سے ایک ادبی گھروندا تعمیر کیا ہے۔

کاش اس داستان کا انجام بخیر ہو اور ہم کہہ سکیں کہ عبد الصمد خاں اور ان کے کتب خانے نے باقی زندگی ہنسی خوشی گزاری۔ کچھ بھی ہو، دل کو ایک دھڑکا سا ہے۔

(کتب خانہ – پاکستان اور ہندوستان میں ہماری قدیم کتابیں کہاں کہاں اور کس حال میں‌ ہیں! کے عنوان سے بی بی سی (ریڈیو سروس) کے دستاویزی پروگرام کو تحریری شکل دی گئی تھی جس سے ہم نے عبدالصمد صاحب کا یہ قصّہ نقل کیا ہے۔ یہ کتاب بی بی سی سے وابستہ رہنے والے معروف پاکستانی صحافی، محقق اور مصنّف رضا علی عابدی کی سعی ہے۔)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں