The news is by your side.

Advertisement

جنگِ‌ ستمبر: جب چونڈہ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا

یہ حقیقت ہے کہ جنگِ ستمبر میں پاکستان کو ایک ایسے دشمن کا سامنا تھا جو اپنی فوج اور وسائل کے لحاظ سے اس پر برتری رکھتا تھا، مگر تاریخ گواہ ہے کہ میدانِ جنگ میں ایک غیّور قوم کے جذبہ شہادت سے سرشار رکھوالوں کے مقابلے پر آنے والا دشمن اپنے جنگی ساز و سامان اور طاقت کو آزما کر پچھتایا اور بھاگ نکلا۔

65 کی جنگ میں پاکستانی افواج نے دشمن پر ثابت کیا کہ وہ اپنی مقدّس سرزمین کے چپّے چپّے کا دفاع کرنا جانتی ہے اور اسے ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جنگِ ستمبر کا تذکرہ دلوں کو گرماتا اور ہمارے ایمان و یقین کو تازہ کر دیتا ہے۔ یہاں ہم تاریخِ عالم کے اس ناقابلِ فراموش دن کا تذکرہ کررہے ہیں جب پاکستانی افواج نے چونڈہ میں بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا کر اسے بدترین ہزیمت اور شکست سے دوچار کیا تھا۔

تاریخ نویس ستمبر کی پاک بھارت جنگ کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ قرار دیتے ہیں۔ طاقت کے نشے میں چُور بھارت نے پاک فوج کی توجہ لاہور محاذ سے ہٹانے کے لیے 600 ٹینکوں اور ایک لاکھ فوج کے ساتھ سیالکوٹ میں چار واہ، باجرہ گڑھی کے مقام پر حملہ کردیا۔ لیکن پاک فوج کے جوان اپنے جسموں پر بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے اور چونڈہ کے محاذ کو دشمن کے لیے قبرستان بنا دیا، سیکڑوں ٹینک اس روز ملبے کا ڈھیر بنے اور بھارت کو عبرت ناک شکست ہوئی۔

پاکستان کے صوبے پنجاب میں سیالکوٹ کا یہ مقام چونڈہ کے نام سے دنیا کی تاریخ میں بھارتی ٹینکوں کا قبرستان مشہور ہے جہاں پاک فوج نے جنرل ٹکا خان کی قیادت میں ہمّت و بہادری اور شجاعت کی لازوال اور بے مثال داستانیں رقم کیں۔

اس جنگ میں پاکستانی فوج نے نہ صرف سیالکوٹ کو دشمن کے حملے سے بچایا بلکہ بھارتی فوج جو یہ چاہتی تھی کہ کسی طرح ہر لحاظ سے اہمیت کی حامل جی ٹی روڈ کو کاٹ کر برتری حاصل کرلے، اس کی یہ خواہش بھی ناکام بنا دی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں