پاکستان میں غیر رسمی معیشت ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے جو ریاستی مالیاتی نظام، ٹیکس وصولی اور معاشی شفافیت کے لیے بڑا چیلنج رہا ہے۔ لاکھوں افراد اور کاروبار بینکنگ اور دستاویزی نظام سے باہر رہ کر نقد لین دین، حوالہ ہنڈی اور بغیر رجسٹریشن کاروبار کے ذریعے معیشت کا حصہ ہیں، جس کی وجہ سے حکومت کو سالانہ اربوں روپے کے ٹیکس کا نقصان ہوتا ہے۔
مہنگائی، بے روزگاری، کاروباری لاگت میں اضافہ اور نظام پر عدم اعتماد غیر رسمی معیشت کو تقویت دیتے ہیں، جب کہ کمزور نگرانی اور مؤثر اصلاحات کی کمی اس رجحان کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ جب تک معیشت کو دستاویزی بنانے، ٹیکس نظام کو سادہ اور منصفانہ بنانے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، غیر رسمی معیشت پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی رہے گی۔
سال کے اختتام پر ایف آئی اے نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں رواں سال چھاپوں کے دوران مجموعی طور پر 1 ارب 99 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد کی گئی، 523 چھاپے مارے گئے، 546 مقدمات درج کر کے 667 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، اور 174 انکوئریوں کی تفتیش مکمل کی گئی۔ برآمد کرنسی میں 7 لاکھ 77868 امریکی ڈالر، 32 کروڑ روپے مالیت کی دیگر غیر ملکی کرنسی اور 1 ارب 45 کروڑ سے زائد پاکستانی روپے شامل ہیں۔
اس رپورٹ سے ملک کی معاشی، انتظامی اور مالیاتی صورتِ حال کی کئی گہری پرتیں بے نقاب ہوتی ہیں، اور یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملک میں حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج ایک منظم، وسیع اور جڑ پکڑا ہوا نیٹ ورک ہے۔
ملک بھر میں غیر قانونی فاریکس نیٹ ورک پر ایف آئی اے کا وار
اگر ایک ہی سال میں تقریباً 2 ارب روپے سے زائد کرنسی برآمد ہو رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اصل حجم اس سے کہیں زیادہ ہوگا، جو قانون کی گرفت میں نہیں آیا۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ عوام اور کاروباری طبقے کو ریاستی مالیاتی نظام پر اعتماد نہیں ہے۔
صرف یہ ہی نہیں بلکہ بڑی مقدار میں امریکی ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسی کی برآمدگی یہ بتاتی ہے کہ لوگ روپے کی بہ جائے غیر ملکی کرنسی کو محفوظ سمجھ رہے ہیں، اور ڈالر کی مانگ رسمی بینکنگ چینلز سے ہٹ کر غیر قانونی راستوں سے پوری کی جا رہی ہے۔ اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ملکی سطح پر مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، معاشی غیر یقینی ابھی تک پوری طرح قابو میں نہیں آ سکی ہے۔
تاہم، یہ خبر مثبت پہلو بھی رکھتی ہے اور ملک گیر سطح پر کارروائیاں، تمام زونز میں گرفتاریاں، مارکیٹوں اور پلازوں کو سیل کرنا، اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اس عمل میں شمولیت سے حکومتی سطح پر یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست اب غیر رسمی معیشت کے خلاف اور رِٹ قائم کرنے میں سنجیدہ ہے، خاص طور پر آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف اور بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں، اور حکومت یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ مالی جرائم کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پشاور، بلوچستان اور کراچی زونز میں گرفتاریاں زیادہ ہیں، یعنی سرحدی علاقوں میں کرنسی اسمگلنگ زیادہ فعال ہے، افغانستان، ایران اور خلیجی ممالک سے جڑے غیر رسمی مالی نیٹ ورک اب بھی مؤثر ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کو علاقائی اور بین الاقوامی نوعیت کا مالی چیلنج درپیش ہے۔
لیکن جو خدشہ اب بھی موجود ہے وہ یہ ہے کہ جب تک بینکنگ نظام کو آسان، ٹیکس نیٹ کو منصفانہ، اور روپے کو مستحکم نہیں بنایا جاتا، حوالہ ہنڈی دوبارہ سر اٹھاتی رہے گی۔ کیوں کہ ملک میں معاشی دباؤ اور غیر یقینی صورت حال اب بھی موجود ہے، عوام اور کاروبار کا ایک حصہ ریاستی نظام کے بجائے غیر رسمی راستوں پر انحصار کر رہا ہے۔
رفیع اللہ میاں گزشتہ 20 برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، ان دنوں اے آر وائی نیوز سے بہ طور سینئر صحافی منسلک ہیں۔


