اسلام آباد (4 جون 2026): پاکستان نے ایران سے متعلق انٹیلیجنس معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کرنے کے دعوے بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے ایران سے متعلق انٹیلیجنس معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کرنے کے دعوے بے بنیاد ہیں، بعض میڈیا رپورٹس میں کیے گئے دعوؤں کو دو ٹوک اور غیر مبہم انداز میں مسترد کرتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران سے متعلق انٹیلیجنس معلومات امریکا کو دیے جانے کے تمام دعوے قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، یہ بے بنیاد دعوے جاری سفارتی کوششوں اور مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔
Weekly Press Briefing by the Spokesperson @TahirAndrabi
On Fake News of Intel-sharing with the US; 🇵🇰 Advocacy for ending violence against Lebanon and US-brokered Lebanon-Israel Ceasefire pic.twitter.com/BPBln1bUq9
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 4, 2026
طاہر اندرابی کے مطابق 29 مئی 2026 کو وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے درمیان مشرق وسطیٰ اور خلیجی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، پاکستان اور امریکا کے درمیان علاقائی امن، استحکام اور سفارتی حل پر بات چیت ہوئی، اس ملاقات کے دوران کسی قسم کی انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلیے امریکا کے مثبت کردار کا خیر مقدم کرتا ہے، امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے قیام کیلیے سفارتی کوششیں قابلِ ستائش ہیں، اسلام آباد خطے کے پیچیدہ مسائل کے حل کیلیے مذاکرات، سفارتکاری اور پُرامن رابطوں پر یقین رکھتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ غیر مصدقہ اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلیے سفارتی کوششوں کا تسلسل برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔


