منگل, جون 9, 2026
اشتہار

پاکستان میں دہشت گردی میں افغان سرزمین کے استعمال کے ناقابلِ تردید شواہد منظرِ عام پر

اشتہار

حیرت انگیز

(20 فروری 2026): پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں افغان سرزمین کے استعمال اور افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے حوالے سے نئے اور سنگین شواہد سامنے آگئے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 16 فروری کو باجوڑ میں ملنگی پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کا ذمہ دار افغان شہری نکلا ہے، جس کی شناخت خارجی احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی ہے۔

مذکورہ دہشت گرد کا تعلق افغانستان کے صوبہ بلخ سے تھا اور وہ افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا حصہ بھی رہ چکا ہے۔ اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں 11 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 2 معصوم شہری شہید ہوئے تھے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے مسلسل سرحد پار سے مل رہے ہیں، جو طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی مبینہ سرپرستی کا واضح ثبوت ہے۔

حالیہ ریکارڈ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے متعدد حملوں میں افغان کنکشن سامنے آیا ہے، 6 فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں حملہ کرنے والے بمبار نے افغانستان سے تربیت حاصل کی تھی، جبکہ 11 نومبر 2025 کو اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔

24 نومبر کو ایف سی ہیڈ کوارٹرز پشاور پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا تعلق بھی سرحد پار سے تھا۔ اس کے علاوہ ڈی آئی خان پولیس ٹریننگ سینٹر اور وانا کیڈٹ کالج پر ہونے والے حملوں میں بھی افغان شہری ملوث پائے گئے۔

4 مارچ 2025 کو بنوں کینٹ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی، جبکہ 19 اکتوبر 2025 کو جنوبی وزیرستان سے گرفتار ہونے والا خودکش بمبار نعمت اللہ بھی افغان صوبے قندھار کا رہائشی تھا۔

11 مارچ 2025 کو جعفر ایکسپریس حملے کے سہولت کاروں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ افغانستان میں روپوش خارجی نور ولی سے مسلسل رابطے میں تھے، ان تمام شواہد سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے افغان سرزمین اور وہاں موجود وسائل کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں