امریکی کوششیں ناکام، پاکستان کانام دہشت گردی کی فنڈنگ کرنے والوں میں شامل نہیں
The news is by your side.

Advertisement

امریکی کوششیں ناکام، پاکستان کانام دہشت گردی کی فنڈنگ کرنے والے ممالک میں شامل نہیں

پیرس: امریکی کوششوں‌اور بھارتی پروپیگنڈے کو پھر ناکامی کو منہ دیکھنا پڑتا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ’گرے لسٹ‘ میں پاکستان کا نام شامل نہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں‌ اور موقف کو ایک بار پھر تسلیم کیا گیا ہے.ایف اے ٹی ایف کے پیرس میں منعقدہ تین روزہ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں پاکستان کا نام ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں، جنھیں دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل کی فراہمی روکنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے پاکستان کا نام دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کی تھی، جس پر اجلاس میں غور کیا گیا۔

ایکشن ٹاسک فورس کی جاری کردہ حالیہ فہرست میں‌ عراق، شام، سری لنکا، اتھوپیا، سربیا، ٹرینڈاڈ ٹوباگو، وناتو اور یمن کے نام شامل ہیں.

واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، برطانوی خبر رساں‌ ادارے نے بھی یہ خبر دی. اس ضمن میں‌ پاکستان بھی افواہیں گردش میں‌ رہیں، تاہم اب اس دعوے کی ایف ٹی ایف اے کی جانب سے تردید ہوگئی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے کے لیے سرگرم

اس فیصلے کے بعد دفتر خارجہ نے واشنگٹن کو پیغام دیا کہ تعلقات میں‌ بہتری کے لیے ہمارے موقف کا احترام کیا جائے.

واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف 1989 میں‌ قائم ہونے والا ایک بین الحکومتی ادارہ ہے، جس کے ارکان کی تعداد 35 ہے، جن میں امریکا، برطانیہ، چین، انڈیا اور دیگر شامل ہیں، البتہ پاکستان تنظیم کا رکن نہیں ہے.

پاکستان کو امریکا سے تعلقات رکھنے ہیں تو شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی، امریکی نائب وزیرخارجہ

اس ادارے کا مقصد عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے جامع اور مربوط قانونی اور عملی اقدامات کرنا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں