حالیہ جنگ بندی کے بعد، جس میں پاکستان کے اہم کردار کی بات کی جا رہی ہے، ایک سوال سامنے آ رہا ہے کہ اس کا کریڈٹ کس کو دیا جائے۔ بعض حلقوں میں یہ بحث نوبیل امن انعام تک جا پہنچی ہے۔ اگرچہ یہ باتیں قبل از وقت ہیں، لیکن یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان اب محض حالات پر ردعمل دینے والا ملک نہیں رہا بلکہ بتدریج انہیں متاثر بھی کر رہا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ہمیشہ اندرونِ ملک مکمل اعتماد کا باعث نہیں بنتی۔ تاہم اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور کشیدگی میں کمی آتی ہے تو وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو تسلیم کرنا ہوگا، جنہوں نے مشکل حالات میں استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔
پاکستان کے کردار کو صرف ثالثی کہنا درست نہیں۔ روایتی طور پر ثالثی کا مطلب غیر جانب داری اور فاصلے سے معاملات کو آگے بڑھانا ہوتا ہے، لیکن پاکستان صرف فریقین کو قریب نہیں لا رہا بلکہ ان حالات کو بھی متاثر کر رہا ہے جن میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔ یوں پاکستان کا کردار محض ثالثی نہیں بلکہ محدود حالات میں نتائج کو سنبھالنے کا عمل ہے۔ پاکستان ایک مشکل تزویراتی ماحول میں کام کر رہا ہے۔ اس کی معیشت کمزور ہے، جغرافیائی حالات پیچیدہ ہیں اور چین، امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات نہایت حساس نوعیت کے ہیں۔ ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستان نے خود کو براہِ راست تنازع سے دور رکھا، مختلف ممالک کے ساتھ روابط برقرار رکھے اور اپنی اہمیت میں اضافہ کیا۔
کسی بھی سنجیدہ تجزیے میں پاکستان کی ایک بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایک ایٹمی طاقت ہے۔ ”ذمہ دار ایٹمی ریاست“ کا تصور محض ایک دفاعی اصطلاح نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ ایٹمی صلاحیت پاکستان کو تین اہم خصوصیات فراہم کرتی ہے۔روک تھام کی صلاحیت، بحران سے نمٹنے کا تجربہ اور مؤثر سفارتی پیغام رسانی کی طاقت۔ ان خصوصیات کی وجہ سے پاکستان کو آسانی سے دبایا یا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اور اس کی سفارتی کوششوں کو زیادہ وزن حاصل ہوتا ہے۔
یہی عناصر پاکستان کے کردار کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ وہ صرف امن کی کوششوں میں شریک نہیں بلکہ تنازع کی حدود کو بھی متاثر کر رہا ہے، جو ایک غیر مستحکم خطے میں نہایت اہم کردار ہے۔ اگر یہ جنگ بندی دیرپا ثابت ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف فوری کشیدگی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ علاقائی نظاموں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جن میں ابراہام معاہدے بھی شامل ہیں۔ اگرچہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ معاہدے ختم ہو جائیں گے، لیکن ان کی اہمیت کو چیلنج ضرور کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا انداز غیر رسمی، لچکدار اور کم نمایاں ہے، جو ایک مختلف سفارتی ماڈل پیش کرتا ہے۔
تاہم اس عمل میں ایک بڑا خطرہ اسرائیل کے رویے کی صورت میں موجود ہے۔ اسرائیلی قیادت، خصوصاً نیتن یاہو کے دور میں، اکثر بات چیت اور عملی پیش رفت کے درمیان فاصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ جنگ بندی وقت کے ساتھ کمزور پڑ سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کو چاہیے کہ وہ پسپائی اختیار کرنے کے بجائے بہتر حکمت عملی اپنائے۔ اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اندر رہتے ہوئے اپنا مؤقف مضبوط کرنا ہوگا اور ساتھ ہی ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو دیرپا ہوں، جیسے انسانی امداد، رابطے کے نظام اور کشیدگی کم کرنے کے طریقے۔
پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ محدود وسائل کے باوجود اہم اور مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم اسے اس عمل کو کسی ایک فرد یا ادارے تک محدود کرنے کے بجائے وسیع تر تعاون کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا تاکہ کسی بھی ناکامی کو اجتماعی ذمہ داری سمجھا جائے۔
اگر مذاکرات کا عمل سست ہو جائے تو پاکستان کو واضح اور مضبوط بیانیہ بھی دینا ہوگا۔ ابہام مفید ہو سکتا ہے، لیکن مکمل خاموشی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ واضح مؤقف اور اصولی موقف ہی اس کی ساکھ کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس تناظر میں کام یابی کی نئی تعریف سامنے آتی ہے۔ کام یابی یہ نہیں کہ مسئلہ فوراً حل ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ کشیدگی کو قابو میں رکھا جائے، بات چیت جاری رہے اور حالات مزید خراب نہ ہوں۔ ماضی میں پاکستان کئی مواقع پر اہم کردار ادا کرنے کے قریب پہنچا لیکن وہ مواقع ضائع ہو گئے۔ موجودہ صورتحال ایک نیا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر پاکستان کو مستقل اہمیت حاصل کرنی ہے تو اسے ادارہ جاتی مضبوطی، معاشی بہتری اور اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔
یہ صورتحال پاکستان کے عالمی کردار میں ایک تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اب وہ صرف ایک ردعمل دینے والا ملک نہیں بلکہ ایسا ملک بن سکتا ہے جو مشکل حالات میں بھی اثر ڈال سکے اور معاملات کی سمت کو متاثر کر سکے۔
تاہم یہ کوئی حتمی کام یابی نہیں بلکہ ایک آغاز ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا پاکستان اس موقع کو مستقل کام یابی میں بدل سکتا ہے یا یہ بھی ماضی کی طرح ضائع ہو جائے گا۔ یہی فیصلہ کرے گا کہ پاکستان محض بحرانوں میں شریک رہے گا یا ان کے نتائج کو مستقل طور پر متاثر کرنے والا ملک بنے گا۔


