The news is by your side.

Advertisement

پاک بحریہ کی سیکیورٹی ورکشاپ محفوظ سمندر خوشحال پاکستان جاری

کراچی: پاک بحریہ کے زیر انتظام ’محفوظ سمندر خوشحال پاکستان ‘ کے موضوع پر پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں پہلی میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ جاری ہے۔

دو ہفتوں پر محیط ورکشاپ کا آغاز 11 ستمبر کو ہوا جس کا مقصد شرکا کو بحری امور سے متعلق آگاہی فراہم کرنا اور ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی میں پاکستان کے وسیع و عریض بحری شعبے کے کردار اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

پندرہ روزہ میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ کا پہلا ہفتہ کالج کے اندر ہونے والی علمی سرگرمیوں جبکہ دو سرا مرحلہ کراچی، کریکس ایریاز اور ساحلی علاقوں میں قائم پاک بحریہ کی تنصیبات اور یونٹس اور دیگر قومی بحری اداروں کے دوروں پر مشتمل تھا۔

ورکشاپ کے دوسرے مرحلے کا آغاز 18 ستمبر کو ہوا، وفد کے شرکا میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان، صوبائی نمائندوں، ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد، ماہرین تعلیم اور اعلیٰ سرکاری حکام شامل تھے۔

کراچی میں اپنے قیام کے دوران وفد نے پاکستان نیوی فلیٹ ہیڈکوار ٹرز، پی این ڈاکیارڈ، کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اور سندھ فشریز ڈیپارٹمنٹ کا دورہ کیا۔

اراکین ِ وفد کو خطے کے موجودہ چیلنجز اور ملک کے بحری مفادات کے تحفظ میں پاک بحریہ اور اس کی مختلف کمانڈز کے کردار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

شرکا کو پاکستان نیوی کے اندرون ملک جہاز سازی کے پروگرام اور جہازوں اور آبدوزوں کی مرمت کرنے کی صلاحیتوں سے آگاہ کیا گیا، وفد کے ارکان نے پاکستان نیوی کے جہازوں کا بھی دورہ کیا اور کراچی کے ساحل کے قریب ہونے والی بحری مشقیں دیکھیں۔

بعد ازاں ورکشاپ کے شرکا نے کریکس ایریاز میں قائم پاک بحریہ کی فارورڈ بیسز کا بھی دورہ کیا جہاں کمانڈر پاک میرینز نے اس علاقے کی دفاعی اور اقتصادی اہمیت پر روشنی ڈالی اور موجودہ چیلنجز کے تناظر میں پاک میرینز کے کردار کو واضح کیا۔

وفد کے ارکان نے پی این ہوور کرافٹ کے ذریعے کریکس ایریاز کا بھی دورہ کیا۔

کوسٹل ایریاز آمد پر اراکین وفد نے جناح نیول بیس اورماڑہ کا دورہ کیا جہاں انہیں بیس کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔

وفد کو ساحلِ مکران پر قومی ترقیاتی منصوبوں اور ساحلی پٹی پر آباد بلوچ عوام کی سماجی و اقتصادی بہود کے حوالے سے پاک بحریہ کی کاوشوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

کیڈ ٹ کالج اورماڑہ آمد پر اراکین وفد کو کیڈٹس کو دی جانے والی سہولیات اور ان اقدامات سے آگاہی فراہم کی گئی جو اس کالج کو ساحلِ مکران پر قائم ایک اعلیٰ اور معیاری تربیتی ادارہ بنانے کے لیے اٹھائے جارہے ہیں۔

وفد کے اراکین 100 بستروں پر مشتمل پاک بحریہ کے اسپتال پی این ایس درمان جاہ بھی گئے جہاں انہیں بتایا گیا کہ پاکستان نیوی اس ہسپتال میں مقامی افراد اور ساحلی پٹی کے اطراف آباد لوگوں کو مفت طبی سہولیات مہیا کررہی ہے۔

اپنے دورے کے آخری مرحلے میں میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکا گوادر پورٹ پہنچے، وفد کو پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے حوالے سے اس بندرگاہ کی اہمیت اور ان موثر اقدامات پر بریفنگ دی گئی جو پاک بحریہ نے CPEC کے بحری جزو بشمول گوادر پورٹ اور سمندری راہداریوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے ہیں۔

وفد کے ارکان نے سی پیک اور گوادر پورٹ کے تحفظ کے حوالے سے پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں اور قومی ترقی کے منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور بحرہند میں پاکستان کے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پاک بحریہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں اور اقدامات کو سراہا۔

ورکشاپ کے شرکا نے نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں پاکستان کی بحری سرحدوں کی حفاظت کے حوالے سے پاک بحریہ کے کردار پر بریفنگ دی گئی۔

دو ہفتوں پر محیط میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ 25 ستمبر کو اختتام پذیر ہو جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں