بدھ, جون 10, 2026
اشتہار

پاکستان: سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (20 مئی 2026): پاکستان میں دو دہائیوں کے طویل عرصے بعد سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ملک میں دو دہائیوں بعد سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ تیل و گیس کی تلاش کیلیے آف شور بڈ راؤنڈ کے تحت معاہدوں اور لائسنسز کی دستخطی تقریب ہوئی۔

اس حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تین سالہ لائسنس کی مدت کے فیز ون میں 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی جب کہ ڈرلنگ تک پیش رفت کی صورت میں مجموعی سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

سندھ اور بلوچستان کی ساحلی حدود سے متصل انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں اور 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط 23 بلاکس کی منظوری دی گئی ہے۔

دو بلاکس کے معاہدے پہلے ہی وزیراعظم ہاؤس میں طے پا چکے ہیں اور اب 21 پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں پر دستخط کے بعد آف شور بڈ راؤنڈ کا فریم ورک مکمل ہو گیا ہے۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ماڑی انرجیز نے 23 میں سے 18 بلاکس بطور آپریٹر اور 5 بلاکس بطور جوائنٹ وینچر پارٹنر حاصل کیے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کو 8 ایکسپلوریشن بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں جب کہ پرائم گلوبل انرجیز کو ایک بلاک بطور آپریٹر الاٹ کیا گیا ہے۔

یونائیٹڈ انرجی پاکستان اور اورینٹ پٹرولیم سمیت دیگر جوائنٹ وینچر پارٹنرز بھی منصوبے میں شامل ہیں۔

اعلامیہ کے مطابق فیز ون میں سیسمک ڈیٹا اکٹھا کرنے سمیت جیولوجیکل و جیو فزیکل اسٹڈیز شامل ہوں گی۔ مثبت نتائج کی صورت میں فیز ٹو کے تحت سمندر میں ایکسپلوریشن کنویں کھودے جائیں گے۔

وفاقی وزیر علی پرویز نے کہا ہے کہ سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کے معاہدوں پر دستخط توانائی پالیسی میں تاریخی سنگِ میل ہیں۔ نئے پٹرولیم رولز کے نفاذ سے شفافیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ مقامی توانائی وسائل کی پائیدار ترقی کے لیے کمپنیوں کو سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کریں گے۔

+ posts

علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں

اہم ترین

علیم ملک
علیم ملک
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں

مزید خبریں