لندن(26 فروری 2026): انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور ‘دی ہنڈریڈ’ کی تمام آٹھ فرنچائزز نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارتی مالکانہ حقوق والی ٹیمیں پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کر سکتی ہیں۔
ایک مشترکہ بیان میں ای سی بی نے واضح کیا ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ہر قومیت اور پس منظر کے کھلاڑیوں کے لیے کھلا ہے اور کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بی بی سی کی جانب سے رپورٹ کیا گیا تھا کہ مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز جیسی ٹیمیں مارچ میں ہونے والی نیلامی میں پاکستانی کھلاڑیوں پر غور نہیں کریں گی۔
تاہم، ای سی بی نے تمام ٹیموں کو ای میل کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ اگر شہریت یا قومیت کی بنیاد پر کسی بھی کھلاڑی کے ساتھ امتیازی سلوک کے شواہد ملے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
اگلے ماہ ہونے والی نیلامی کے لیے مجموعی طور پر 67 پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنے نام جمع کرائے ہیں، جن میں 63 مرد اور 4 خواتین کرکٹرز شامل ہیں۔ ‘دی ہنڈریڈ’ انتظامیہ اور ٹیموں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کھلاڑیوں کا انتخاب صرف ان کی کارکردگی، دستیابی اور ٹیم کی ضرورت کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ ان کی قومیت، نسل یا مذہب کی بنیاد پر۔
انگلینڈ کی وائٹ بال ٹیم کے کپتان ہیری بروک نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک عظیم کرکٹنگ نیشن ہے اور ٹورنامنٹ میں ان کی عدم موجودگی افسوسناک ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی کھلاڑی بہترین ٹیلنٹ کے مالک ہیں اور وہ اپنے ساتھ بڑی تعداد میں تماشائیوں کو بھی گراؤنڈ میں لاتے ہیں، جس سے ٹورنامنٹ کا معیار مزید بہتر ہوگا۔
ای سی بی کا کہنا ہے کہ ‘دی ہنڈریڈ’ کا مقصد کرکٹ کو ہر ایک کے لیے شاملِ عمل بنانا اور عالمی معیار کے بہترین ٹیلنٹ کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔
بورڈ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کرکٹ کو دنیا کا سب سے جامع کھیل بنانے کے لیے تمام رکاوٹیں ختم کریں گے اور ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
بھارتی سیاست کی دی ہنڈریڈ میں بھی انٹری، پاکستانی کرکٹرز کو پک نہ کیے جانے کا خدشہ
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


